آبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس صرف امریکا نافذ کرسکتا ہے، صدر ٹرمپ

Wait 5 sec.

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں 60 دن تک کوئی ٹول ٹیکس نہیں ہوگا، یہ صرف تب ہی لگ سکتا ہے جب امریکا نافذ کرے۔اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی کی 60 روزہ مدت کے دوران آبنائے ہرمز میں کسی قسم کا ٹول وصول نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اس مدت کے اختتام کے بعد ایسا کوئی چارج نافذ ہوگا۔رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کے مفاد اور مرضی کے بغیر ٹول ٹیکس نہیں لگائے جاسکتے، آبنائے ہرمز میں تب ہی ٹول لگ سکتا ہے اگر امریکا نافذ کرے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام امریکی خدمات کے اخراجات کی واپسی کے مقصد کے لیے ہوسکتا ہے، کیونکہ امریکا نے مشرق وسطیٰ کیلئے محافظ فرشتے "گارڈین اینجل” کی طرح خدمات انجام دی ہیں۔ خطے کے امن و استحکام کے لیے امریکی خدمات اور سکیورٹی کردار کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس حوالے سے کسی بھی قسم کے ٹول یا پابندی کے اعلانات عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔