میری لینڈ (20 جون 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ ایران جنگ میں چین نے اہم اور مثبت کردار ادا کیا ہے، انھوں نے ایران کے معاملے میں چین کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ کشیدہ صورت حال میں بیجنگ نے مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا۔میری لینڈ میں جوائنٹ بیس اینڈریوز میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ چین ایران سے اپنی توانائی ضروریات کے لیے تقریباً 50 فی صد تیل خریدتا ہے، تاہم اس کے باوجود حالیہ بحران کے دوران چین نے ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا مظاہرہ کیا۔امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا نے ثالثی ممالک کی مدد سے ایک عبوری معاہدہ کر لیا ہے اور اس پر جلد سوئٹزرلینڈ میں مزید مذاکرات ہونے والے ہیں۔حالیہ ہفتوں میں چین نے ایک جانب ایران کے ساتھ اپنے قریبی معاشی اور تزویراتی تعلقات برقرار رکھے، جب کہ دوسری جانب خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو زندہ رکھنے کے لیے پس پردہ سفارتی رابطوں میں بھی حصہ لیا۔ بیجنگ مسلسل اس مؤقف کا اظہار کرتا رہا ہے کہ ایران کے معاملے کا حل فوجی کارروائی کی بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔اسرائیلی بستیوں سے درآمدات اور انتہا پسند وزرا پر پابندی سے متعلق یورپ نے کیا فیصلہ کیا؟چوں کہ چین ایران کی توانائی برآمدات کا سب سے بڑا خریدار ہے، اس لیے مشرق وسطیٰ میں کسی بھی بڑے تصادم کے براہِ راست اثرات چینی معیشت اور توانائی سلامتی پر مرتب ہو سکتے ہیں، جس کے باعث بیجنگ خطے میں استحکام کا خواہاں ہے۔امریکی صدر نے اپنی گفتگو میں مستقبل کے سفارتی روابط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چینی صدر ستمبر میں امریکا کا دورہ کریں گے، جب کہ وہ خود بھی رواں برس کسی وقت دوبارہ چین جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ ان کے آئندہ غیر ملکی دوروں میں ترکیہ کا دورہ بھی شامل ہے۔دوسری طرف امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان نے ایران کے ساتھ معاہدے میں ہماری مدد کی، پاکستان کے فیلڈ مارشل عظیم شخصیت ہیں، فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم شہبازشریف کے درمیان مضبوط رشتہ ہے، پاکستانی فوج سویلین حکومت کا مکمل احترام کرتی ہے۔