اترپردیش کے غازی آباد میں نیٹ امتحان کی تیاری کر رہے ایک 22 سالہ طالب علم نے اپنے کمرے میں پھندے سے لٹک کر مبینہ طور پر خودکشی کر لی۔ خودکشی کرنے سے قبل طالب علم نے ایک جذباتی ویڈیو بھی ریکارڈ کی، جس میں اس نے اپنی موت کی وجہ بیان کی ہے۔ پولیس نے لاش کو قبضے میں لے کر معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔ یہ افسوسناک واقعہ غازی آباد کے وجے نگر تھانہ علاقے کا ہے۔ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر ذرائع کے حوالے سے شائع خبر کے مطابق 22 سالہ طالب علم طویل عرصے سے نیٹ امتحان پاس کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مسلسل کئی کوششوں کے بعد بھی کامیابی نہ ملنے سے وہ شدید تناؤ میں تھا۔ جمعرات (18 جون) کی رات وہ روزانہ کی طرح اپنے کمرے میں پڑھنے کے لیے گیا تھا۔ اگلی صبح جب کافی دیر تک کمرہ نہیں کھلا تو اہل خانہ نے اندر جا کر دیکھا، اس کی لاش پھندے سے لٹکی ملی۔واقعہ کی اطلاع ملتے ہی وجے نگر تھانہ کی پولیس موقع پر پہنچی اور وہاں سے ضروری ثبوت اکٹھے کیے۔ تحقیقات کے دوران پولیس کو پتہ چلا کہ طالب علم نے خودکشی سے قبل اپنے موبائل سے ایک ویڈیو ریکارڈ کی تھی۔ اس ویڈیو میں اس نے کہا کہ وہ کئی کوششوں کے بعد بھی نیٹ امتحان پاس نہیں کر پایا، جس کی وجہ سے وہ ذہنی دباؤ میں تھا۔ ویڈیو میں اس نے یہ بھی واضح کیا کہ اس کی موت کے لیے کوئی بھی ذمہ دار نہیں ہے۔کوتوالی کی اے سی پی اُپاسنا پانڈے نے معاملے کی تصدیق کی ہے۔ پولیس نے طالب علم کے موبائل سے ملنے والی ویڈیو کو اپنے قبضے میں لے کر جانچ شروع کر دی ہے۔ ساتھ ہی جائے وقوعہ سے بھی ضروری شواہد اکٹھے کیے گئے ہیں۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے اور پولیس معاملے کے تمام پہلوؤں کی جانچ کر کے آگے کی قانونی کارروائی کر رہی ہے۔واضح رہے کہ یہ پورا معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب اتوار (21 جون) کو ملک اور بیرون ملک میں نیٹ-یو جی کا ری-ایگزام ہونے جا رہا ہے۔ اس امتحان میں ملک و بیرون ملک سے 22.79 لاکھ سے زیادہ امیدوار شامل ہونے جا رہے ہیں۔ یہ میڈیکل داخلہ امتحان ہمیشہ کی طرح پین اینڈ پیپر (آف لائن) موڈ میں منعقد کیا جائے گا۔ امتحان کا وقت دوپہر 2:00 بجے سے شام 5:15 بجے تک طے کیا گیا ہے۔ جبکہ پی ڈبلیو ڈی اور پی ڈبلیو بی ڈی زمرے کے اہل طلبہ کو قوانین کے مطابق اضافی وقت دیا جائے گا، جس سے وہ شام 6:20 بجے تک اپنا امتحان مکمل کر سکیں گے۔