واشنگٹن (20 جون 2026): سابق امریکی صدر بارک اوباما نے کہا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فروری میں ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے سے پہلے امریکا جس صورت حال میں تھا، ملک یا تو دوبارہ اُسی مقام پر آ گیا ہے یا شاید اب اس سے بھی بدتر حالت میں ہے۔اوباما نے این بی سی کے پروگرام ’’ٹوڈے‘‘ کے شریک میزبان کریگ میلون کو جمعہ کو نشر ہونے والے انٹرویو میں کہا ’’ہم نے ایک جنگ لڑی، اربوں ڈالر خرچ کیے، اپنی فوج پر غیر معمولی دباؤ ڈالا، بہت سے لوگ جان سے گئے، اور اب محسوس ہوتا ہے کہ ہم وہیں واپس آ گئے ہیں جہاں جنگ شروع کرنے سے پہلے تھے، بلکہ شاید کچھ زیادہ خراب حالت میں۔‘‘انھوں نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے بارے میں ردعمل میں کہا ’’مجھے جنگ بندی دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے اور مجھے امید ہے کہ یہ برقرار رہے گی۔‘‘سابق صدر نے ایران کے خلاف جنگ کی وجوہ پر بھی سوال اٹھایا۔ اوباما نے یاد دلایا کہ ان کے دورِ حکومت میں طے پانے والے ایران جوہری معاہدے کے تحت ’’ایران نے جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے پر اتفاق کیا تھا۔‘‘امریکی انٹیلیجنس کا انتباہ، اسرائیل ایران امن معاہدے کو نقصان پہنچا سکتا ہے: رپورٹانھوں نے کہا ’’اس انتظامیہ، یا اس انتظامیہ کی سابق شکل، نے اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی، جس کے نتیجے میں ایران نے اپنی جوہری صلاحیت میں مزید اضافہ کر لیا۔‘‘واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں 2018 میں 2015 کے ایران جوہری معاہدے سے دست برداری اختیار کی تھی۔ اس معاہدے میں 25 سال سے زائد مدت کے دوران تہران کے لیے تفصیلی اقدامات طے کیے گئے تھے، تاکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے یا تیار کرنے سے روکا جا سکے۔ موجودہ مفاہمتی یادداشت میں ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل کے بارے میں مکمل وضاحت موجود نہیں۔اوباما نے کہا اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم اس وقت انتشار اور سیاسی تقسیم کے دور سے گزر رہے ہیں، لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہماری جمہوریت، ہمارے شہری رویے اور اقدار، اور ایک دوسرے کے ساتھ برتاؤ کے بارے میں ہماری مشترکہ سمجھ بوجھ کمزور پڑنا شروع ہو گئی ہے۔انھوں نے کہا ’’ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اپنے منتخب نمائندوں کو جواب دہ بنائیں، اور میرے خیال میں ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ ذمہ داری اب ماضی کا حصہ بن چکی ہے۔‘‘