حکومت نے 16 دواؤں پر لگائی فوری پابندی، سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد وزارت صحت نے اٹھایا بڑا قدم

Wait 5 sec.

صحت اور خاندانی بہبود کی مرکزی وزارت نے بڑا فیصلہ لیتے ہوئے 16 دواؤں (ایف ڈی سی) کی مینوفیکچرنگ، فروخت اور تقسیم پر فوری طور پر پابندی لگا دی ہے۔ وزارت نے اس سلسلے میں ڈرگز اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ 1940 کے سیکشن 26 اے کے تحت نوٹیفکیشن جاری کیا۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ یہ نوٹیفکیشن فوری طور پر نافذ ہو گیا ہے۔مرکزی حکومت نے 156 دواؤں پر لگائی پابندی، درد کی دوائیں اور ملٹی وٹامن بھی شاملیہ فیصلہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد لیا گیا جس میں ملک میں دستیاب فکسڈ ڈوز کمبی نیشن(ایف ڈی سی) ادویات کا جائزہ لینے کا حکم دیا گیا تھا۔ ان ہدایات کے بعد ڈرگ ٹیکنیکل ایڈوائزری بورڈ (ڈی ٹی اے بی) نے ایک ماہر کمیٹی تشکیل دی۔ اس کا مقصد مختلف ایف ڈی سی ادویات کی جانچ کرکے ان دواؤں کی شناخت کرنا تھا جو غیر سائنسی، طبی طور سے غیر منصفانہ، یا انسانی صحت کے لیے ممکنہ طور پر خطرناک ہو سکتی ہیں۔وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ ایک ماہر کمیٹی کی سائنسی تشخیص اور سفارشات کی بنیاد پر حکومت نے 16 دواؤں (ایف ڈی سی) کے خلاف کارروائی کی ہے جن کا طبی جواز صحیح نہیں پایا گیا اور جن کا مسلسل استعمال ممکنہ خطرات کے سلسلے میں فائدہ مند نہیں مانا گیا۔ ممنوعہ ایف ڈی سی مختلف میڈیکل زمروں سے متعلق ہیں، جن میں بعض ڈرمیٹولوجیکل ادویات، ینالجیسک اور اینٹی کنولسنٹس اور اینٹی بائیوٹک پر مبنی دوائیں شامل ہیں۔وزارت نے کہا کہ یہ کارروائی حکومت کی اس بات کو یقینی بنانے کی مسلسل کوششوں کے مطابق ہے کہ عوام کو صرف محفوظ، موثر اور سائنسی طور پر تصدیق شدہ ادویات دستیاب ہوں۔ اس سے پہلے بھی تفصیلی سائنسی جائزے کے بعد کئی دواؤں (ایف ڈی سی) پر پابندی لگا ئی گئی تھی۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس کے مطابق ملک بھر میں 16 ایف ڈی سی کی مینوفیکچرنگ (فروخت کے لیے)، فروخت، تقسیم اور سپلائی پر پورے میں فوری طور پر روک رہے گی۔#HealthForAll Union Ministry of Health and Family Welfare Prohibits Manufacture, Sale and Distribution of 16 Fixed Dose Combinations (FDCs) in Public InterestDecision aimed at safeguarding public health and ensuring availability of only scientifically justified drug…— Ministry of Health (@MoHFW_INDIA) June 20, 2026اس سلسلے میں تمام ریاستی ڈرگ کنٹرولرز، ریگولیٹری اتھارٹیز اور انفورسمنٹ ایجنسیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان اطلاعات کی سختی سے تعمیل اور عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ وزارت نے ڈرگس مینوفیکچررز، امپورٹرز، ڈسٹری بیوٹرز اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو بھی قانون کے التزامات کی تعمیل کرنے کے لیے ضروری اصلاحی اقدامات کرنے کا مشورہ دیا ہے۔