واشنگٹن (20 جون 2026): امریکی خفیہ ایجنسیوں نے ٹرمپ انتظامیہ کو خبردار کرتے ہوئے رپورٹ دی ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو امریکا ایران معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے لیے اقدامات کر سکتے ہیں۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس اداروں نے ٹرمپ انتظامیہ کو خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ایسے اقدامات کر سکتے ہیں جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے ساتھ دیرپا امن معاہدے کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔امریکی اخبار نے موجودہ اور سابق امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے پرعزم دکھائی دیتا ہے، حالاں کہ حال ہی میں طے پانے والی امریکا۔ایران مفاہمتی یادداشت میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کی شق شامل ہے۔اسرائیلی بستیوں سے درآمدات اور انتہا پسند وزرا پر پابندی سے متعلق یورپ نے کیا فیصلہ کیا؟امریکی عہدے دار نے کہا کہ اگرچہ صورت حال مزید کشیدہ نہ بھی ہو، تب بھی جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کے انخلا سے انکار کے باعث یہ نازک معاہدہ ناکام ہو سکتا ہے۔ عہدے دار نے کہا ’’لبنان کے کسی حصے پر مسلسل قبضہ برقرار رکھنا تباہی کا نسخہ ہے، اسرائیل کے مکمل انخلا کے بغیر اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان دوبارہ جھڑپوں کے امکانات تقریباً یقینی ہیں۔‘‘ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعرات کو اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ’’واحد طاقت ور اتحادی‘‘ کو خود سے دور نہ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’اس وقت پوری دنیا میں صدر ٹرمپ ہی واحد سربراہِ مملکت ہیں جو اسرائیل کے لیے ہمدردانہ رویہ رکھتے ہیں۔‘‘دوسری جانب ایک امریکی عہدے دار نے انادولو ایجنسی کو تصدیق کی کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے۔