زندہ خاتون کو دستاویزات میں مردہ قرار دے کر پنشن اور راشن بند کر دیا گیا

Wait 5 sec.

بنگلور(20 جون 2026): سرکاری لاپروائی کا حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے، زندہ خاتون کو کاغذات میں مردہ قرار دے کر پنشن اور راشن بند کر دیا گیا۔بھارتی ریاست کرناٹک کے ضلع ہاویری سے سرکاری لاپروائی کی ایک انتہائی افسوسناک مثال سامنے آئی ہے، جہاں انتظامیہ نے ایک زندہ خاتون کو سرکاری ریکارڈ میں مردہ قرار دے دیا۔بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق اس سنگین غلطی کے نتیجے میں خاتون کی ماہانہ پنشن، آدھار کارڈ، راشن کارڈ اور دیگر تمام سرکاری سہولیات منسوخ کر دی گئیں۔اٹیگیری گاؤں کی رہائشی شیوگانگاوا تھاری اپنی والدہ شنکراوا کے انتقال کے بعد ان کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے سرکاری دفتر گئیں تھیں۔ تاہم، عملے کی بڑی غفلت کے باعث والدہ کے بجائے خود شیوگانگاوا کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا گیا اور ریکارڈ میں انہیں مردہ دکھا دیا گیا۔خاتون کو اس غلطی کا علم اس وقت ہوا جب وہ اپنے مرحوم شوہر کی پنشن لینے بینک پہنچیں، جہاں حکام نے انہیں بتایا کہ سرکاری دستاویزات کے مطابق وہ وفات پا چکی ہیں، اس لیے رقم جاری نہیں کی جا سکتی۔شیوگانگاوا کے مطابق اس لاپروائی کی وجہ سے ان کی 14 ہزار روپے ماہانہ پنشن اور راشن بند ہو گیا جبکہ آدھار کارڈ بھی غیر فعال ہو گیا۔ وہ ایک سال سے انصاف کے لیے مختلف دفاتر کے چکر کاٹ رہی ہیں اور شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں، کیونکہ گھر میں راشن تک نہیں اور قرض خواہ رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اب ان کا بیٹا ہی خاندان کا واحد کفیل ہے۔واقعہ میڈیا پر آنے کے بعد تحصیل انتظامیہ نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے خاتون کی والدہ کے نام درست ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا ہے۔تاہم شیوگانگاوا کی دیگر دستاویزات کی بحالی کا عمل ابھی جاری ہے۔ شگاؤں کے تحصیلدار یلاپا نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تمام متعلقہ محکموں سے رابطہ کر کے خاتون کا مسئلہ جلد از جلد حل کر دیا جائے گا۔