پیپر لیک تنازعہ کے بعد دوبارہ منعقد ہونے والے نیشنل ایلیجی بلیٹی کم انٹرنس ٹیسٹ انڈر گریجوایٹ (ری-نیٹ یو جی 2026) امتحان نے ملک بھر کے طلبہ اور ان کے والدین میں ملے جلے جذبات کو جنم دیا۔ کچھ امیدواروں نے اسے اپنی کارکردگی بہتر بنانے کا ایک نیا موقع قرار دیا، جبکہ کئی طلبہ اور ان کے اہل خانہ نے دوبارہ امتحان کے فیصلے کو ذہنی اور تعلیمی دباؤ کا باعث بتایا۔کرناٹک کے منگلورو میں امتحان دینے والے ایک طالب علم نے بتایا کہ جب پہلی بار دوبارہ امتحان کی خبر سامنے آئی تو وہ خوش ہوا، کیونکہ پہلے امتحان میں وہ اپنی توقعات کے مطابق کامیابی حاصل نہیں کر سکا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ اس نے پوری تیاری کی ہے اور اسے یقین ہے کہ وہ بہتر نتائج حاصل کرے گا۔بنگلورو کے ایک امیدوار نے کہا کہ امتحان منسوخ ہونے کی خبر اس کے لیے شدید مایوسی کا باعث بنی تھی، کیونکہ اس نے گزشتہ دو برسوں سے اس امتحان کے لیے سخت محنت کی تھی۔ اس کے مطابق اس صدمے سے نکل کر دوبارہ پڑھائی پر توجہ مرکوز کرنے میں اسے کافی وقت لگا، لیکن اب اس کی پوری توجہ امتحان پر مرکوز ہے۔بنگلورو کے ایک اور طالب علم نے کہا کہ اس معاملے پر اس کے ذہن میں ملے جلے جذبات تھے۔ ایک طرف اسے محسوس ہوا کہ پیپر لیک کے بعد دوبارہ امتحان کرانا شفافیت اور انصاف کے لیے ضروری تھا، کیونکہ کچھ افراد کے پاس پہلے ہی سوالیہ پرچہ پہنچ چکا تھا۔ دوسری جانب اسے ان طلبہ کے لیے افسوس بھی تھا، جنہوں نے اپنی نیند اور آرام قربان کرکے طویل عرصے تک تیاری کی تھی۔کیرالہ کے ترواننت پورم میں ایک طالب علم نے کہا کہ چند افراد کی غلطی کی سزا پورے ملک کے طلبہ کو بھگتنا پڑتی ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات صرف چند امیدواروں تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے اثرات ملک بھر کے لاکھوں طلبہ پر پڑتے ہیں۔ ایک دوسرے طالب علم نے امتحان میں اضافی 15 منٹ دینے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے جواب لکھنے کے لیے زیادہ وقت ملا اور طلبہ کو کچھ راحت محسوس ہوئی۔تمل ناڈو کے چنئی میں ایک والد راج کمار نے بتایا کہ ان کے بیٹے کا پہلا امتحان بہت اچھا گیا تھا، لیکن امتحان منسوخ ہونے کے بعد اسے دوبارہ ذہنی اور تعلیمی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ تمام مشکلات کے باوجود ان کا بیٹا مثبت سوچ کے ساتھ دوبارہ امتحان کی تیاری کرتا رہا۔چنئی کی ایک اور سرپرست امّو شبو نے کہا کہ تقریباً ڈیڑھ ماہ کے انتظار کے بعد بچے حوصلہ جمع کرکے دوبارہ امتحان دینے پہنچے ہیں۔ ان کے مطابق امتحانی مراکز پر انتظامات اطمینان بخش تھے اور والدین کے لیے بھی مناسب سہولتیں فراہم کی گئی تھیں، جس سے پورا عمل منظم اور آسان محسوس ہوا۔