دہرادون سانحہ: مجرموں کو سخت سزا اور بے قصوروں کے تحفظ کا مطالبہ، محمود مدنی کا وزیر داخلہ کو مکتوب

Wait 5 sec.

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے ضلع دہرادون کے وکاس نگر علاقے کے بیراگی والا گاؤں میں پیش آنے والے قتل کے واقعہ اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی بے گناہ انسان کا قتل ایک سنگین جرم اور انسانیت کے خلاف عمل ہے، جس کی کسی بھی صورت میں حمایت نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے مقتول ونود کشیپ کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ واقعہ میں ملوث ملزمان کو بلاامتیاز قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔مولانا مدنی نے کہا کہ ایسے افسوسناک واقعات کے بعد پورے معاشرے کو متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور مجرموں کے خلاف متحدہ موقف اختیار کرنا چاہیے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض شرپسند اور فرقہ پرست عناصر نے اس سانحہ کو بنیاد بنا کر علاقے میں نفرت اور تقسیم کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء دہرادون کی جانب سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق واقعہ کے بعد مسلمانوں سے وابستہ متعدد گھروں، دکانوں اور گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا، مساجد کو نشانہ بنایا گیا اور خوف و ہراس کے باعث کئی خاندانوں کو اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنا پڑی۔انہوں نے کہا کہ ان حالات کے پیش نظر جمعیۃ علماء ہند نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو ایک تفصیلی مکتوب ارسال کیا ہے جس میں قتل کے مقدمہ کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات، اصل مجرموں کو قرار واقعی سزا، فرقہ وارانہ تشدد اور نفرت انگیز سرگرمیوں کی روک تھام، متاثرہ خاندانوں کی محفوظ واپسی اور علاقے میں امن و امان کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔مکتوب میں آتش زنی، توڑ پھوڑ اور مذہبی مقامات پر حملوں کی آزادانہ تحقیقات کرانے اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مقتول کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ فراہم کرنے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔مولانا مدنی نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ ایک ملزم کے مکان پر قانونی اور عدالتی تقاضے مکمل کیے بغیر بلڈوزر کے ذریعے کارروائی کی گئی۔ ان کے مطابق ایسی کارروائیاں آئین ہند، قانون کی حکمرانی اور انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہیں کیونکہ کسی بھی شخص کی سزا کا تعین عدالتیں کرتی ہیں، نہ کہ عوامی دباؤ یا مشتعل ہجوم۔ انہوں نے کہا کہ قانون سے ماورا اقدامات عوام کے قانونی نظام پر اعتماد کو کمزور کرتے ہیں۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ حکومت، انتظامیہ اور پولیس کی ذمہ داری ہے کہ ایک طرف اصل مجرموں کو قانون کے مطابق سزا دلائی جائے اور دوسری طرف تمام بے قصور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے ملک کے تمام طبقات سے اپیل کی کہ وہ قومی اتحاد، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور آئینی اقدار کے تحفظ کے لیے متحد ہو کر نفرت اور تشدد کی سیاست کو مسترد کریں۔