ایران کے ساتھ مذاکرات: جے ڈی وینس سوئٹزرلینڈ روانہ

Wait 5 sec.

واشنگٹن (21 جون 2026): امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ہفتے کے روز سوئٹزرلینڈ روانہ ہوئے، جہاں اتوار کو برگن اسٹاک اسکی ریزورٹ میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے پہلے دور کا انعقاد متوقع ہے۔سوئٹزرلینڈ کے 2 روزہ دورے پر واشنگٹن سے روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا ’’ہمیں امید ہے کہ جوہری معاملے پر پیش رفت ہوگی اور لبنان میں جنگ بندی کے معاملے پر بھی پیش رفت ہوگی۔ یہی دو بڑے موضوعات ہیں جن پر ہماری توجہ مرکوز رہے گی۔‘‘وائٹ ہاؤس کے نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ہفتے کی صبح سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے تھے۔ بعد ازاں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں ایرانی وفد بھی سوئٹزرلینڈ پہنچ گیا۔ پاکستان اور قطر کے وزرائے اعظم اور پاکستان کی اعلیٰ عسکری قیادت مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے سوئٹزرلینڈ میں موجود ہیں۔ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ڈائریکٹر بھی مذاکرات میں شریک ہوں گے۔جے ڈی وینس کے مطابق مذاکرات چند روز جاری رہیں گے جب کہ وہ خود ایک یا دو دن سوئٹزرلینڈ میں قیام کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ پہلے دور کا مقصد مذاکراتی ڈھانچے اور طریقہ کار کو حتمی شکل دینا ہے۔ ان کے مطابق اعلیٰ سطحی مذاکرات کے بعد تکنیکی ماہرین کی سطح پر بھی بات چیت ہوگی، جو سوئٹزرلینڈ میں جاری رہ سکتی ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اعلیٰ سطح مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق امریکا چاہتا ہے کہ مذاکرات کے پہلے دور کے اختتام پر ایران اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو اپنی جوہری تنصیبات کے دورے کی دعوت دے، جنھیں امریکا اور اسرائیل نے نشانہ بنایا تھا۔ ایسے معائنے کا آخری دورہ جون 2025 میں جنگ سے قبل ہوا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے بدلے امریکا ایران کو منجمد فنڈز کے ایک حصے تک رسائی دینے پر آمادہ ہے، جس کا آغاز قطر میں موجود 6 ارب ڈالر کے فنڈ سے کیا جا سکتا ہے۔ ان فنڈز کو ایران انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اشیا کی خریداری کے لیے استعمال کر سکے گا۔ادھر مذاکرات سے قبل اسرائیل اور حزب اللہ نے ہفتے کے روز جنگ بندی کی دوبارہ پابندی کے عزم کا اظہار کیا، تاہم ماضی میں ایسے اعلانات زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکے۔ جمعہ کو بھی ایک اسی نوعیت کی جنگ بندی چند گھنٹوں میں ختم ہو گئی تھی۔ جے ڈی وینس نے تسلیم کیا کہ لبنان کی صورت حال مذاکراتی عمل کو متاثر کر سکتی ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششیں کر رہے ہیں۔امریکی نائب صدر نے امید ظاہر کی کہ لبنان میں کشیدگی میں کچھ کمی آئی ہے اور حالات بتدریج بہتر ہو رہے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بات چیت کے لیے سفارتی رابطے جاری ہیں۔