بوگوٹا (21 جون 2026): کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے اسرائیل کے عوام سے لبنان پر میزائل حملے بند کروانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کو امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کا احترام کرنا چاہیے۔کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے ہفتے کے روز اسرائیلی عوام پر زور دیا کہ وہ اپنی حکومت کے لبنان پر حملے بند کرانے کے لیے آواز اٹھائیں، جب کہ انھوں نے حالیہ امریکا-ایران مفاہمتی یادداشت کی مکمل حمایت کا اظہار بھی کیا۔صدر پیٹرو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’’اس معاہدے کا تمام ممالک کو احترام کرنا چاہیے۔‘‘ ان کے بقول یہ مفاہمت دنیا کے لیے ’’زندگی‘‘ اور استحکام کا پیغام ہے۔انھوں نے اسرائیلی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سفارتی پیش رفت کے باوجود لبنان کی خودمختار ریاست پر حملے جاری رکھنا قابلِ افسوس ہے۔ کولمبیا کے صدر، جن کا ملک اس وقت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت کر رہا ہے، نے کہا کہ انسانیت کو اس ’’ہولناک تنازع‘‘ کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کرنی چاہیے۔ایران کے ساتھ مذاکرات: جے ڈی وینس سوئٹزرلینڈ روانہگستاوو پیٹرو نے کہا کہ اسرائیلی عوام کو اس بات کو یقینی بنانے میں کردار ادا کرنا چاہیے کہ ان کی حکومت اپنے ہمسایہ ممالک پر حملے بند کرے۔ ان کے مطابق ہمسایہ ممالک کو دشمن نہیں بلکہ بہن بھائی سمجھا جانا چاہیے۔گستاوو پیٹرو نے مزید کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی کشیدگی سے متعلق سفارتی کوششیں جاری رہنی چاہئیں تاکہ مسائل کا حل مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے تلاش کیا جا سکے۔پیٹرو کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنگ بندی کے باوجود لبنان میں اسرائیلی حملوں کی اطلاعات جاری ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2 مارچ سے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں 4 ہزار سے زائد افراد ہلاک، 11 ہزار 873 زخمی جب کہ 10 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔رپورٹ کے مطابق اسرائیل جنوبی لبنان کے بعض علاقوں پر بدستور قابض ہے، جن میں کچھ علاقے کئی دہائیوں سے جب کہ بعض حالیہ تنازع کے دوران اس کے کنٹرول میں آئے۔ حالیہ فوجی کارروائی کے دوران اسرائیلی افواج لبنان کے اندر 10 کلومیٹر (6 میل) سے زیادہ تک پیش قدمی کر چکی ہیں۔