امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کے ذریعہ جہاز رانی کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے پر جاری غیر یقینی صورتحال کے درمیان ہندوستان کے لیے راحت کی خبر سامنے آئی ہے۔ تین ہندوستانی پرچم والے خام تیل کے ٹینکر ہفتہ کے روز آبنائے ہرمز سے بحفاظت پار ہوئے اور توقع ہے کہ وہ جلد ہی ہندوستانی بندرگاہوں پر پہنچ جائیں گے۔مرکزی جہاز رانی کے وزیر سربانند سونووال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں یہ معلومات شیئر کی ہے۔ ویبھو نامی یہ ٹینکر 24 جون کو گجرات کے وادینر بندرگاہ پر پہنچنے والا ہے۔ جہاز میں 37 ہندوستانی ملاح سوار ہیں اور 286,572 میٹرک ٹن خام تیل لے کر جا رہا ہے۔ دوسرا ٹینکر، وبھور، بھی 24 جون کو گجرات کے سکّا بندرگاہ پر پہنچے گا۔ اس جہاز میں 27 ہندوستانی ملاح سوار ہیں اور اس میں 288,893 میٹرک ٹن خام تیل ہے۔ تیسرا جہاز، سین مار ہیرالڈ، ہندوستان کے مشرقی ساحل کے لیے روانہ ہوا اور توقع ہے کہ یکم جولائی کو پہنچے گا۔ اس جہاز میں 30 ہندوستانی ملاح سوار ہیں اور اس میں 285,400 میٹرک ٹن خام تیل ہے۔مرکزی وزیر سونووال نے کہا کہ ان جہازوں میں کل 8.6 لاکھ میٹرک ٹن خام تیل اور 94 ہندوستانی عملے کے ارکان ہیں۔ وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت ہندوستان کے سمندری مفادات اور توانائی کی فراہمی کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اولین ترجیح کے ساتھ کام کر رہی ہے۔امریکہ اور ایران نے گزشتہ ہفتے ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے جس کے بعد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ تاہم اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جاری رکھنے کے بعد خطے میں ایک بار پھر تناؤ بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس کشیدگی کے دوران ہندوستانی پرچم والے 13 جہاز آبنائے ہرمز میں پھنس گئے۔ ایران کی مشترکہ فوجی کمان نے ہفتے کے روز آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کی دوبارہ بندش کا اعلان کیا۔ ایرانی فوج نے اسے پہلا قدم قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر خلاف ورزیاں جاری رہیں تو مزید اقدامات کیے جائیں گے۔ایرانی فوج نے امریکہ کی جانب سے مفاہمت کی یادداشت(ایم او یو) کی خلاف ورزی کو جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کی واپسی میں ناکامی اور لبنان پر حملہ کرکے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کا حوالہ دیا۔ اس دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ایران کے ساتھ 14 نکاتی معاہدے میں طے پانے والی جنگ بندی برقرار رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ ہرمز کے راستے جہاز رانی دوبارہ بند کر دی گئی ہے۔