’امریکی صدر ڈونلڈ حسین ٹرمپ ہیں‘ ایران امریکا مذاکرات پر اسرائیلی میڈیا بوکھلا گیا

Wait 5 sec.

(21 جون 2026): ایران امریکا جنگ بندی اور مذاکرات سے اسرائیل اور اس کا میڈیا اتنا بوکھلا گیا کہ انہوں نے ٹرمپ کو ڈونلڈ حسین ٹرمپ ہیں۔پاکستان کی کامیاب سفارتی کوششوں کے باعث امریکا اور ایران میں جنگ بندی ہو چکی اور اب دونوں ممالک کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات شروع ہو چکے ہیں۔تاہم اس سارے امن منصوبے میں جارحانہ عزائم رکھنے والی قابض صہیونی سلطنت اسرائیل کو اپنی ناکامی نظر آ رہی ہے، جس کی وجہ سے اسرائیلی حکام اور میڈیا بوکھلا گیا ہے۔اسرائیلی میڈیا کی بوکھلاہٹ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جو کچھ دن پہلے تک امریکی صدر ٹرمپ کے قصیدے پڑھ رہا تھا، وہی اب ٹرمپ پر طنز کے تیر برسا رہا ہے۔ایک اسرائیلی میڈیا کے پریزنٹر نے مسلم مخالف سوچ کی انتہا کرتے ہوئے اپنے تبصرے میں امریکی صدر کے نام کے ساتھ حسین لگاتے ہوئے کہا کہ ‘یہ ڈونلڈ ٹرمپ نہیں ہیں بلکہ ڈونلڈ حسین ٹرمپ ہیں’۔صرف اتنا ہی نہیں بلکہ امریکا ایران جنگ بندی اور مذاکرات کو ختم کرانے کے لیے اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کے باوجود لبنان پر حملے جاری ہیں۔نیتن یاہو کے ان جارحانہ عزائم کے باعث امریکا اور دیگر یورپی و مغربی ممالک میں اسرائیل کی حمایت میں نمایاں کمی واقع ہو رہی ہے۔امریکی انٹیلیجنس کا انتباہ، اسرائیل ایران امن معاہدے کو نقصان پہنچا سکتا ہے: رپورٹ