ہرمز جنگ سے پہلے کی صورتحال پر واپس نہیں جائے گا، قالیباف

Wait 5 sec.

تہران(18 جون 2026): ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ حالیہ جنگ بندی معاہدہ امریکا کی ناکامی کا ایک واضح دستاویزی ریکارڈ ہے، اور ایران اس وقت امریکا کے ساتھ طاقت اور مکمل اعتماد کی پوزیشن میں مذاکرات کر رہا ہے۔ایرانی میڈیا "پریس ٹی وی” کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں اسپیکر باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ حالیہ مذاکرات ایران کو میدانِ جنگ میں ملنے والی کامیابیوں کا نتیجہ ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ خطے کی صورتحال بدل چکی ہے اور اب آبنائے ہرمز جنگ سے پہلے والی پوزیشن پر واپس نہیں جائے گا۔باقر قالیباف نے اس فیصلے کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال تبدیل ہونے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ایران بین الاقوامی قوانین یا بحری جہاز رانی کے خلاف کوئی اقدام کرنے جا رہا ہے، بلکہ اب ایران آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کے عوض باقاعدہ فیس وصول کرے گا۔مذاکرات اور معاہدے کی تفصیلات بتاتے ہوئے ایرانی اسپیکر نے انکشاف کیا کہ اس معاہدے کے تحت ایران میں سرمایہ کاری کے لیے 300 ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان 300 ارب ڈالر کا ایک بڑا حصہ ملک کی تعمیرِ نو اور ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا۔ایم او یو فوری نافذ العمل ہوگا، آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی، وزیر اعظم شہباز شریف