پیرس (18 جون 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو بیلسٹک میزائل رکھنے سے منع کرنا نا انصافی ہوگی۔روئٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز پیرس پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا گر دیگر ممالک کے پاس بیلسٹک میزائل موجود ہیں تو ایران کے پاس ان کا نہ ہونا غیر منصفانہ ہوگا۔انھوں نے پیرس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ’’میں یہ کہہ رہا ہوں کہ اگر دوسرے ممالک کے پاس یہ ہیں تو ان کے پاس نہ ہونا تھوڑا غیر منصفانہ ہے۔‘‘ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا اگر دوسرے ملکوں کے پاس بیلسٹک میزائل ہیں تو ایران کو کیسے منع کریں۔ انھوں نے کہا ’’اگر سعودی عرب اور قطر، اور سب کے پاس ہیں، تو میں کہوں گا کہ تناسب کے لحاظ سے یہ ٹھیک ہے۔‘‘ایران کے میزائلوں کے بارے میں کوئی دوسرا ملک گفتگو کرے یہ بالکل پسند نہیں، اسماعیل بقائیواضح رہے کہ واشنگٹن نے تہران کے ساتھ ایک معاہدہ کر لیا ہے جس کے ذریعے خطے میں تقریباً 4 ماہ سے جاری تنازع ختم کیا گیا ہے، ایسے میں پیرس میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اپنے فوجی دستے خلیج میں ’’کچھ عرصے‘‘ تک رکھے گا۔اس موقع پر امریکی صدر نے پھر پاکستان کی کھل کر تعریف کی، اور کہا پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا یہ معاہدہ شاید تاریخ کا سب سے بڑا واقعہ ہے، جس پر کوئی بھی یقین نہیں کر پا رہا تھا، میں پاکستان اور قطر کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ٹرمپ نے کہا دونوں ملکوں نے بہت سخت محنت کی ہے، یہ دونوں ایران کو اچھی طرح جانتے ہیں، پاکستان اس معاملے میں کافی اچھا رہا، قطر اور ایران کے آپس میں کچھ اختلافات تھے لیکن انھوں نے اپنے معاملات حل کر لیے، قطر ایران کا پڑوسی ہے۔اگرچہ امریکی صدر نے اس سے قبل کہا تھا کہ نتین یاہو سے مذاکرات کے نتیجے میں تشکیل دیے جانے والے نکات چھپائے گئے ہیں، تاہم پیرس میں پریس کانفرنس کے موقع پر انھوں نے پہلی بار بتایا کہ اسرائیل کو مفاہمتی یادداشت کی ایک کاپی بھیج دی گئی ہے۔ خیال رہے کہ اس کی کاپی تک میڈیا پر بھی آ چکی تھی۔