’نیوٹن کو سائنسداں کی جگہ بتایا پائلٹ‘، اڈیشہ کی نئی نصابی کتابوں میں ملیں 1,678 غلطیاں، اعلیٰ سطحی جانچ کے لیے کمیٹی تشکیل

Wait 5 sec.

اڑیسہ کے محکمہ اسکول اور ماس ایجوکیشن کو اس وقت زبردست عوامی ناراضگی اور تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ معاملہ بے حد سنگین اور حیران کرنے والا ہے۔ تعلیمی سیشن 27-2026 کے لیے کلاس 1 سے 8 ویں تک کی جو نئی کتابیں چھپ کر آئی ہیں، ان میں ایک-دو نہیں بلکہ 1678 حقائق پر مبنی، چھپائی اور تصوراتی غلطیاں پائی گئی ہیں۔تعلیم: کیا اب غریب کے لیے ترقی کا راستہ بند ہو رہا ہے؟...گردیپ سنگھ سپلسب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ ان کتابوں کو قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی 2020) اور اڈیشہ نصابی فریم ورک 2025 کے تحت ’ڈائریکٹوریٹ آف ٹیچر ایجوکیشن‘ اور ایس سی ای آر ٹی جیسے بڑے اداروں کی نگرانی میں تیار کیا گیا تھا۔ اس بڑی لا پرواہی پر سخت رخ اختیار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ موہن چرن ماجھی نے ایک اعلیٰ سطحی جانچ کے احکامات دے دیئے ہیں تاکہ اس کوالٹی کنٹرول کی ناکامی کی ذمہ دار فسران اور اداروں پر سخت کارروائی کی جاسکے۔’غلطیوں کا پلندہ‘ کہی جانے والی یہ کتابیں جب اسکول پہنچیں تو انہیں پڑھانے والے اساتذہ کے ہوش اُڑ گئے۔ کتابوں میں اتنی غیر ذمہ دارانہ غلطیاں تھیں جو بچوں کی پوری بنیاد کو ہی برباد کرسکتی ہیں۔ ان میں دنیا کے سب سے عظیم سائنسداں سر آئی جیک نیوٹن کو سائنسداں کی بجائے ’عظیم پائلٹ‘ لکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کرناٹک اسمبلی کی تصویر کو ’اڈیشہ اسمبلی‘ بتا کر چھاپ دیا گیا ہے۔ وہیں کرناٹک کے مشہور پمپی مندر احاطے کی تصویر کو ’کونارک سوریہ مندر‘ بتا دیا گیا ہے۔سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ، سرکاری اساتذہ کے لیے ٹی ای ٹی پاس کرنا لازمی، مہلت میں ایک سال کی توسیعیہی نہیں، اڈیشہ کی مشہور نیامگیری پہاڑیوں کو جغرافیہ کی نصابی کتاب میں غلط طریقے سے جھارکھنڈ میں دکھا دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ برہم پور جو کہ گنجم ضلع کا ایک اہم شہر ہے، اسے براہ راست ایک نیا ’ضلع‘ اعلان کر دیا گیا ہے۔ مجموعی طور سے 1678 غلطیوں میں سے 705 غلطیاں صرف 8 ویں کتابوں میں ملی ہیں۔ یہاں گندم کو دھان، سیسے کے گلاس کو کپ، درجہ حرارت کو دباؤ اور فوڈ ویب (خوراک جال) کو فوڈ چکر (خوراک چکر) لکھا گیا ہے۔ اتنا ہی نہیں ’اکویناکس‘ کو ’اکویٹر‘ یعنی خط استوا بتا دیا گیا ہے۔ان رپورٹوں کے سامنے آتے ہی وزیر اعلیٰ موہن چرن ماجھی نے بدھ کے روز لوک سیوا بھون میں ایک انتہائی اہم جائزہ میٹنگ کی۔ اس میٹنگ میں اسکول اور عوامی تعلیم کے وزیر نتیا نند گوڑ، چیف سکریٹری انو گرگ اور دیگر سیئر افسران موجود رہے۔ وزیراعلیٰ اس پورے معاملے کی جانچ کے لیے ڈیولپمنٹ کمشنر کی صدارت میں 3 رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس کمیٹی کو ٹھیک 7 دن کے اندر اپنی جانچ رپورٹ سونپنے کا حکم دیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ماجھی نے افسران کو صاف طور پر کہہ دیا ہے کہ اس سنگین لاپرواہی کے لیے جو بھی شخص یا ایجنسی ذمہ دار ہے، اس کی شناخت کرکے سخت سے سخت سزا دی جائے۔اس معاملے میں تنازعہ بڑھتا دیکھ کر محکمہ اسکول اور عوامی تعلیم نے سرکاری طور پر ان غلطیوں کو تسلیم کرلیا ہے۔ اب مشکل یہ ہے کہ بچوں کی پڑھائی درمیان میں نہ رکے، اس لیے محکمہ نے سبھی اسکولوں کو ایک تصحیح نامہ جاری کیا ہے۔ اساتذہ کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ بچوں کو پڑھاتے وقت کتابوں کی غلطیوں کو اس تصحیح نامہ سے اصلاح کرکے پڑھائیں۔ وزیر اعلیٰ نے اس کے ساتھ ہی پورے کورس فریم ورک تیار کرنے کے عمل کا جائزہ لینے کا حکم دیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسی شرمناک لاپرواہی دوبارہ نہ ہو۔