’امریکا ایران کو فوری تیل فروخت کی اجازت دے گا‘

Wait 5 sec.

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے کہا ہے کہ امن معاہدے پر دستخط کے بعد امریکا ایران کو فوری تیل فروخت کی اجازت دے گا۔اخبار نے لکھا کہ معاہدے پر دستخط ہوتے ہی ایرانی تیل پر پابندیوں میں نرمی کر دی جائے گی، ایرانی تیل کی برآمدات کیلئے بینکنگ، ٹرانسپورٹ اور انشورنس بھی بحال ہوگی۔وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی پابندیوں میں نرمی سےایران کی معیشت کو بڑا ریلیف ملنے کا امکان ہے۔برطانوی اخباربرطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ معاہدہ ہونے کی صورت میں ایران کے لیے 300 ارب ڈالر کے فنڈز پر غور کر رہی ہے۔فنانشل ٹائمز کے مطابق اگر تہران جنگ کے خاتمے کے لیے ایک حتمی معاہدے پر رضامند ہو جاتا ہے جس میں جوہری معاہدہ بھی شامل ہو، تو ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے لیے 300 ارب ڈالر کے سرمایہ کاری فنڈ کے قیام کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے۔ایک سینئر امریکی عہدیدار نے کہا کہ واشنگٹن نے پابندیوں میں نرمی اور ’’ملک کی تعمیرِ نو کے لیے 300 ارب ڈالر کے بڑے فنڈ‘‘ کے امکان پر بات چیت کی ہے۔ ان مراعات کا تعلق اس بات سے ہوگا کہ ایران سوئٹزرلینڈ میں جمعہ کے روز باضابطہ طور پر دستخط ہونے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی شرائط پر کس حد تک عمل کرتا ہے۔مذاکرات سے آگاہ ایک شخص نے بتایا کہ اس فنڈ کا قیام مفاہمتی یادداشت کے تحت طے پانے والے حتمی معاہدے سے مشروط ہوگا، اور یہ جنگ بندی میں مزید 60 دن کی توسیع، آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے اور جوہری معاہدے پر مزید مذاکرات کے بعد ممکن ہوگا۔