اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے ہیبرون یعنی الخیل کے مقدس مقام پر فلسطینیوں سے کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔اسرائیل کے وزیر خزانہ Bezalel Smotrich کا کہنا ہے کہ انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر ہیبرون میں مسجد ابراہیمی پر فلسطینیوں کا اختیار چھین لیا۔سموٹریچ نے کہا کہ اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ پہلے ہیبرون میں اور مقدس مقامات پر دیے گئے بہت سے اختیارات … اب ہیبرون میونسپلٹی کے کنٹرول میں نہیں ہیں”ان کا یہ بیان اس وقت آیا جب وہ ہیبرون کے قریب ایک نئی اسرائیلی بستی کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں شریک تھے۔وزیر کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ بندی کے قدم سے کہیں زیادہ ہے، یہ ایک قدم ہے … عملی خودمختاری، حکمرانی کا۔۔پچھلی چند دہائیوں کے دوران، اسرائیل نے ہیبرون کے پرانے شہر کے وسیع حصوں کو بند کر کے ابراہیمی مسجد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔