کیرالہ اسمبلی کے اسپیکر تھروونچور رادھا کرشنن نے منگل (16 جون) کو کہا کہ ایوان میں عوام کو سوالات پوچھنے کا موقع دینے کے امکان پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسپیکر نے کہا کہ اسمبلی کو صرف منتخب نمائندوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ان شہریوں کو بھی جمہوری عمل میں حصہ لینے کا موقع ملنا چاہیے جو اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں۔پریس کلب انسٹی ٹیوٹ آف جرنلزم میں وائس ایکٹنگ کورس اور اسٹوڈیو کمپلیکس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رادھا کرشنن نے کہا کہ اسمبلی میں عوامی شراکت داری کو مضبوط بنانے کے لیے کچھ تاریخی فیصلوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیسا کہ کچھ غیر ملکی قانون ساز اداروں میں ہوتا ہے، اسی طرح عوام کو بھی سوالات پوچھنے کا موقع ملنا چاہیے۔ ان کے مطابق کسی بھی نظام کو حتمی شکل دینے سے قبل ماہرین سے تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔اسپیکر نے کہا کہ کیرالہ اسمبلی کو عوام کے لیے زیادہ آسان اور مربوط بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ 138 سال پرانا یہ ادارہ بدلتی ہوئی جمہوری ضرورتوں کے مطابق مسلسل ترقی کرتا رہنا چاہیے۔ یہ تجویز قانون سازی کے طریقہ کار کو جدید بنانے اور شہریوں کو جمہوری عمل کے مزید قریب لانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔ اگر یہ نافذ ہو جاتا ہے تو یہ ریاست کے اعلیٰ ترین قانون ساز ادارے اور عوام کے درمیان رابطے کے طریقے میں ایک بڑی تبدیلی لا سکتا ہے۔اسپیکر کے اس بیان کے بعد قانون سازی کے معاملات میں انتخاب کے بعد بھی عوامی شرکت داری بڑھانے پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ اسمبلی اسپیکر نے یہ بھی کہا کہ عوامی رسائی کو بڑھانے کی کوششوں کے تحت اسمبلی اپنی کتابوں اور دستاویزات کے ذخیرے کو آڈیو بکس میں تبدیل کرنے کے امکانات بھی تلاش کر رہی ہے۔قابل ذکر ہے کہ کیرالہ اسمبلی میں 140 اراکین ہیں، جن میں سے 71 نئے اراکین کے لیے بدھ کے روز سے 2 روزہ تربیتی کورس بھی شروع ہو رہا ہے، تاکہ انہیں ایوان کی کارروائی سے متعارف کرایا جا سکے۔ حالیہ دنوں میں اتنی بڑی تعداد میں پہلی بار منتخب ہونے والے اراکین کا ہونا ایک طرح کا ریکارڈ مانا جا رہا ہے۔