کویت نے 2 ہزار سے زائد افراد کی شہریت منسوخ کردی تاہم سرکاری گزٹ میں ان افراد کی شہریت منسوخ کرنے کی کوئی مخصوص قانونی وجہ نہیں بتائی گئی۔تفصیلات کے مطابق کویتی حکومت نے ملک میں شہریت کے ریکارڈ کی اسکروٹنی اور جعلی دستاویزات کے خلاف جاری سخت مہم کے تحت مزید 2,192 افراد کی کویتی شہریت منسوخ کر دی۔کویت کے آفیشل گزٹ ‘کویت الیوم’ میں شائع ہونے والے 8 مختلف شاہی فرامین کے ذریعے اس فیصلے کا باقاعدہ اعلان کیا گیا، جس میں ان تمام افراد اور ان کے زیرِ کفالت اہلخانہ کے نام بھی شامل ہیں، جنہوں نے ان کے ذریعے شہریت حاصل کی تھی۔اس کے علاوہ ایک الگ حکم نامے کے تحت ایک اور شخص کو بھی کویتی قومیت سے محروم کیا گیا ہے۔سرکاری گزٹ میں ان افراد کی شہریت منسوخ کرنے کی کوئی مخصوص قانونی وجہ نہیں بتائی گئی، تاہم کویت کے قانونِ شہریت کے مطابق قومیت واپس لینے کی چند بڑی وجوہات میں دھوکہ دہی، جعل سازی، جھوٹے بیانات کے ذریعے شہریت حاصل کرنا، ریاست کی اجازت کے بغیر دہری شہریت رکھنا، یا ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا شامل ہے۔جو ملکی مفاد کے خلاف ہوں۔ ان احکام میں سب سے بڑی کارروائی ‘فرمان نمبر 92’ کے تحت کی گئی، جس کے ذریعے بیک وقت 1,594 افراد کی شہریت ختم کی گئی۔واضح رہے کہ کویت میں پچھلے دو سالوں سے شہریت کے فائلوں کی سخت ترین دستاویزی تفتیش جاری ہے، جس کے دوران گزشتہ سال 2025 میں بھی تقریباً 50 ہزار افراد کی شہریت منسوخ کی گئی تھی۔کویت میں مقیم 45 لاکھ کی کل آبادی میں کویتی شہریوں کی تعداد محض 15 لاکھ (جو کہ اقلیت بنتی ہے) ہونے کی وجہ سے وہاں کی شہریت کو انتہائی قیمتی اور مراعات یافتہ مانا جاتا ہے۔اس مہم کی زد میں ماضی میں معروف اسلامی اسکالر اور کاروباری شخصیت طارق السویدان بھی آ چکے ہیں۔