اسرائیل کو امریکہ سے ایک اور بڑا جھٹکا لگا ہے۔ اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر بین گویر کو امریکہ کا ویزا نہیں ملا ہے۔ بین گویر ایک خاندانی تقریب میں شامل ہونے کے لیے امریکہ کے شہر میامی جانا چاہتے تھے، لیکن امریکی سفارت خانے سے ویزا کلیئرنس نہ ملنے کی وجہ سے انہوں نے اپنا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔ یہ معلومات اسرائیلی میڈیا ’ہارٹز‘ نے دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پیر کے روز بین گویر نے تل ابیب میں واقع امریکی سفارت خانے سے ویزا کے لیے رابطہ کیا۔ اس پر سفارت خانے کے حکام نے انہیں ذاتی طور پر اپنے دفتر آنے کے لیے کہا۔ سفارت خانہ کا کہنا تھا کہ آپ پر کئی مجرمانہ مقدمات درج ہیں، اس لیے آپ کو یہاں آ کر بائیومیٹرک ڈیٹا دینا ہوگا۔Far-right Israeli minister Ben-Gvir cancels family vacation to U.S. after difficulties obtaining travel visa https://t.co/UpIdRgMJTN— The Right News, Right Now. (@BradPorcellato) June 15, 2026بین گویر نے جب سفارت خانے میں ذاتی طور پر پیش نہ ہونے اور بائیومیٹرک ڈیٹا دینے سے انکار کر دیا، تب امریکی سفارت خانے نے انہیں ویزا نہ دینے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد اسرائیلی وزیر نے اپنا دورہ منسوخ کر دیا۔ ’یروشلم پوسٹ‘ کے مطابق امریکی سفارت خانے نے پہلی بار اسرائیل کے کسی وزیر کے ساتھ ایسا سلوک کیا ہے۔ عام طور پر اسرائیل کے وزراء کو امریکہ خصوصی ویزا دیتا ہے، جس سے انہیں سفر کرنے میں کوئی دشواری نہ ہو۔ حالانکہ بین گویر کے ساتھ اس سلوک کو اسرائیلی میڈیا نے غیر معمولی قرار دیا ہے۔ اسرائیل کی وزارت خارجہ نے اس معاملے پر کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ امریکہ-ایران معاہدے پر اسرائیل کی جانب سے سب سے پہلے بین گویر نے ہی ردعمل دیا تھا۔ بین گویر کا کہنا تھا کہ اسرائیل امریکہ کے معاہدے کو ماننے کے لیے پابند نہیں ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ہم اپنے فوجیوں کو لبنان سے واپس نہیں بلائیں گے۔ بین گویر کو اسرائیل میں دائیں بازو کا رہنما مانا جاتا ہے۔ قومی سلامتی کے وزیر ہونے کے ناطے انہیں وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کا قریبی بھی سمجھا جاتا ہے۔ 50 سالہ بین گویر صیون میں پیدا ہوئے، انہیں 2022 میں پہلی بار اسرائیل کا قومی سلامتی کا وزیر مقرر کیا گیا تھا۔ ہندی نیوز پورٹل ’ٹی وی 9 بھارت ورش‘ پر شائع خبر کے مطابق ان پر اسرائیل میں دہشت گرد تنظیموں کی حمایت اور تشدد پھیلانے کے الزامات کے تحت مقدمے درج ہیں۔