ہندوستانی ریلوے نے ایسٹرن ریلوے پر 405 کروڑ روپے کے ’سگنلنگ اپگریڈیشن پروجیکٹ‘ کو منظوری دے دی

Wait 5 sec.

ایسٹرن ریلوے (ای آر) کو ہائی ڈینسٹی نیٹ ورک (ایچ ڈی این) اور انتہائی زیادہ استعمال ہونے والے نیٹورک (ایچ یو این) روٹس پر 32 اسٹیشنوں پر ’الیکٹرانک انٹرلاکنگ (ای آئی) نصب کرنے کی منظوری ملنے سے ریل کا سفر مزید محفوظ ہو جائے گا۔ ان میں وہ 25 ریلوے اسٹیشن شامل ہیں، جہاں فی الحال پینل انٹرلاکنگ (پی آئی) یا روٹ ریلے انٹرلاکنگ (آر آر آئی) سسٹم موجود ہے۔ باقی 7 اسٹیشنوں پر انٹرمیڈیٹ بلاک سگنلنگ (آئی بی ایس) سسٹم نافذ ہے۔’وندے بھارت چمکتی ہے، تو جنرل ٹرینیں گندی کیوں؟‘ غریب و متوسط طبقہ کے ساتھ تفریق پر پی اے سی نے اٹھایا سوالافسران نے کہا کہ ہندوستانی ریلوے نے اس ’سگنلنگ اپگریڈیشن پروجیکٹ‘ کے لیے 405 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے۔ یہ اہم روٹس پر سگنلنگ سسٹم کی جدید کاری اور پورے نیٹورک میں بھروسہ، حفاظت اور آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنانے کی ہندوستانی ریلوے کی جامع حکمت عملی کا حصہ ہے۔ پرانی ریلے پر مبنی ٹیکنالوجی میں پرانے بنیادی ڈھانچے کی وجہ سے آپریشنل حدود موجود ہیں۔افسران نے مزید کہا کہ صاف اور گندے تاروں کا الگ الگ نہ ہونا، پرانے بجلی کی فراہمی کے نظام، نامناسب ارتھنگ سسٹم اور پرانے سگنلنگ آلات جیسے مسائل کی وجہ سے رکھ رکھاؤ کی ضرورت بڑھ گئی ہے اور خرابی کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ ان پرانے سسٹمز کو جدید ترین الیکٹرانک انٹرلاکنگ ٹیکنالوجی سے لیس کیا جا رہا ہے، جو زیادہ قابل اعتماد، بہتر حفاظت اور تیزی سے خرابی کا پتا لگانے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ای آئی سسٹم اپگریڈ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے ٹرینوں کی آمد و رفت اور سگنلنگ آپریشنز کو زیادہ درستگی اور بھروسے کے ساتھ کنٹرول کرتے ہیں۔ روایتی آر آر آئی سسٹم کے مقابلے میں، ای آئی سگنلنگ کی خرابیوں کے امکانات کو کم کرتا ہے، سسٹم کی دستیابی کو بہتر بناتا ہے اور خرابی کی صورت میں تیزی سے بحالی کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس سے ملک کے کچھ مصروف ترین ریلوے کوریڈورز پر ٹرینوں کی بلاتعطل آمد و رفت میں مدد ملے گی، ساتھ ہی مسافر اور مال برداری دونوں خدمات کے لیے حفاظتی معیارات میں بہتری آئے گی۔قابل ذکر ہے کہ ہندوستانی ریلوے ہائی ڈینسٹی والے روٹس پر کَوچ‘، آٹومیٹک بلاک سگنلنگ اور مرکزی ٹریفک کنٹرول جیسی جدید ترین ٹیکنالوجیز کو سپورٹ کرنے کی صلاحیت رکھنے والا ایک جدید سگنلنگ ایکو سسٹم بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔