فرانس : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران معاہدے میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا۔ قطر اور سعودی عرب کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔یہ بات انہوں نے جی سیون اجلاس کے اختتام پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی اس موقع پر وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے معاہدہ طے پانے پر تمام اتحادی ممالک انتہائی خوش ہیں تاہم اسرائیل سے لبنان کے معاملے پر اختلاف ہیں۔معاہدے کی کامیابی کیلیے پاکستان اور قطر کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، دونوں ملکوں نے بہت سخت محنت کی ہے، یہ دونوں ممالک ایران کو اچھی طرح جانتے ہیں، پاکستان اس معاملے میں کافی اچھا رہا۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ قطر اور ایران کے آپس میں کچھ اختلافات تھے لیکن انہوں نے اپنے معاملات حل کیے، قطر ایران کا پڑوسی ہے، اب ہم ایران کے بیلسٹک میزائل اور اس کے دہشت گرد گروہوں پر بھی بات کریں گے، اسرائیل کو مفاہمتی یادداشت کی ایک کاپی بھیج دی ہے۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ حزب اللہ کے صحرا میں 2 ڈرونز گرنے کے جواب میں اسرائیل کو بیروت پر حملہ نہیں کرنا چاہیے تھا، اسرائیل کو چاہیے کہ لبنان کے معاملے میں اپنی حکمت عملی بہتر کرے۔ایران کے جوہری پروگرام پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس وقت ایرانی جوہری مواد تک کسی کی پہنچ نہیں ہے تاہم ایران کے جوہری ذخائر سے متعلق تکنیکی بات چیت فوری شروع ہوگی۔ایران سے افزودہ جوہری مواد نکال کر اسے ناکارہ بنائیں گے، ہم نے ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روک کر پوری دنیا کو تباہی سے بچایا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین اور روس یہ بات نہیں جانتے کہ امن ڈیل کیسے کی جاتی ہے، یوکرین سے زیادہ روس اپنے فوجیوں سے محروم ہورہا ہے، ایران کے لوگ سخت اور زیرک مذاکرات کار ہیں۔