نیویارک (17جون 2026) : معروف ڈیجیٹل کرنسی بٹ کوائن کی قیمت میں کمی اور ایتھیریم کی قدر میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، فیڈرل ریزرو کے فیصلے سے قبل بٹ کوائن دباؤ کا شکار ہوگئی۔تاس کے مطابق ماسکو میں صبح 10:30 بجے تک بٹ کوائن کی قیمت 1.22 فیصد کم ہوکر 65 ہزار 544 ڈالر رہ گئی جبکہ ایتھریم کی قیمت 0.66 فیصد اضافے کے ساتھ 1,785 ڈالر پر پہنچ گئی۔کوائن مارکیٹ کیپ کے اعداد و شمار کے مطابق 17 جون تک، کرپٹو کرنسی مارکیٹ کی کل کیپٹلائزیشن 2.25 ٹریلین ڈالر تھی ۔ اس رقم میں سے، بٹ کوائن کا حصہ 1.312 ٹریلین ڈالر یعنی 58.4فیصد تھا، جب کہ ایتھیریم کا حصہ 215.438 بلین ڈالر یعنی 9.6 فیصد تھا۔ فیڈرل ریزرو کے فیصلے سے قبل بٹ کوائن دباؤ کا شکار، قیمت 65 ہزار ڈالر کے قریب پہنچ گئی۔کرپٹو ڈاٹ نیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکی فیڈرل ریزرو کے شرح سود سے متعلق اہم فیصلے سے قبل سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کے باعث دنیا کی سب سے بڑی ڈیجیٹل کرنسی بٹ کوائن کی قیمت میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ مارکیٹ کی نظریں مرکزی بینک کی آئندہ پالیسی سمت پر مرکوز ہیں۔مارکیٹ اعداد و شمار کے مطابق بٹ کوائن کی قیمت 16 جون کو تقریباً 67 ہزار 200 ڈالر کی بلند ترین سطح سے گر کر 17 جون کو 65 ہزار 236 ڈالر کی یومیہ کم ترین سطح تک پہنچ گئی۔ بعد ازاں کرپٹو کرنسی کچھ سنبھلی اور 65 ہزار 300 ڈالر کے قریب ٹریڈ ہوتی رہی۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار فیڈرل ریزرو کے دو روزہ پالیسی اجلاس کے نتائج کے منتظر ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ مرکزی بینک شرح سود کو 3.50 سے 3.75 فیصد کے درمیان برقرار رکھے گا، تاہم اصل توجہ فیڈ کے نئے معاشی تخمینوں اور چیئرمین کیون وارش کی پہلی پالیسی بریفنگ پر مرکوز ہے۔مالیاتی ماہرین کے مطابق مارکیٹ اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا فیڈرل ریزرو مستقبل میں شرح سود میں کمی کے امکانات کو مزید محدود کرتا ہے یا نہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب امریکا میں افراطِ زر 4 فیصد سے اوپر برقرار ہے۔تکنیکی تجزیے کے مطابق بٹ کوائن کو 67 ہزار 500 سے 68 ہزار ڈالر کے درمیان مضبوط مزاحمت کا سامنا ہے، جبکہ 63 ہزار 700 اور 60 ہزار ڈالر کی سطحیں اہم سپورٹ زون سمجھی جا رہی ہیں۔کرپٹو مارکیٹ کے ساتھ ساتھ دیگر عالمی منڈیوں میں بھی محتاط رجحان دیکھا گیا۔ سونے اور چاندی کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ خام تیل مسلسل پانچویں روز گراوٹ کا شکار رہا اور 75 ڈالر فی بیرل کے قریب آ گیا۔ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں کمی کی ایک بڑی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے تحت ایرانی تیل کی عالمی منڈی میں واپسی کے امکانات ہیں۔دوسری جانب ایشیائی ٹیکنالوجی شیئرز میں سرمایہ کاری کا رجحان برقرار ہے، جہاں جاپان کا نکی 225 انڈیکس مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے جوش و خروش کے باعث 70 ہزار پوائنٹس کی نئی ریکارڈ سطح عبور کرگیا۔