کوٹا مہاریلی LIVE: راہل گاندھی کا خطاب کچھ دیر میں، طلبہ کے مسائل پر ہوگی گفتگو

Wait 5 sec.

کوٹا میں راہل گاندھی کے پروگرام کے لیے طلبہ کا جوش، رجسٹریشن کاؤنٹروں پر طویل قطاریںکوٹا میں راہل گاندھی کے مجوزہ طلبہ مکالمہ پروگرام سے قبل زبردست جوش و خروش دیکھنے کو مل رہا ہے۔ پروگرام میں شرکت کے لیے قائم رجسٹریشن کاؤنٹروں پر صبح سے طلبہ کی طویل قطاریں دیکھی گئیں۔ منتظمین کے مطابق پروگرام میں داخلہ صرف رجسٹریشن کرانے والے طلبہ کو دیا جائے گا اور اس کے لیے طلبہ کی شناخت کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ مختلف کوچنگ اداروں اور طلبہ ہاسٹلز سے بڑی تعداد میں نوجوان رجسٹریشن مراکز پہنچ رہے ہیں۔ کانگریس کا دعویٰ ہے کہ طلبہ کی غیر معمولی دلچسپی اس بات کا ثبوت ہے کہ نوجوان امتحانی نظام، پیپر لیک اور تعلیمی مسائل پر اپنی آواز بلند کرنا چاہتے ہیں۔راہل گاندھی نے ریا اور اُمیش کی موت کا ذکر کرتے ہوئے نظام پر اٹھائے سوال کوٹا روانگی سے قبل راہل گاندھی نے ایکس پر جاری بیان میں سی کر کے اُمیش اور دہرادون کی ریا کی موت کا ذکر کیا، جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ ری-نیٹ کے دباؤ کا شکار تھے۔ راہل گاندھی نے ان واقعات کو ایک ’ٹوٹے ہوئے اور بدعنوان نظام‘ کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے مرکزی حکومت اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو ہدف تنقید بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپر لیک، امتحانی بے ضابطگیوں اور طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ کوٹا سے ’’چھاتروں کی گونج‘‘ مہم کا آغاز ہوگا۔طلبہ کو راہل گاندھی سے بڑی امیدیں، پیپر لیک اور ذہنی دباؤ اہم موضوعات کوٹا میں زیر تعلیم طلبہ نے راہل گاندھی کے پروگرام سے بڑی توقعات وابستہ کی ہیں۔ مختلف طلبہ کا کہنا ہے کہ پیپر لیک، امتحانی شفافیت، کوچنگ کلچر اور ذہنی دباؤ جیسے مسائل پر سنجیدہ گفتگو وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کئی طلبہ نے کہا کہ برسوں کی محنت کے بعد جب امتحانات کی غیر جانبداری پر سوال اٹھتے ہیں تو ان کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ نوجوانوں کا ماننا ہے کہ اگر ان کے مسائل براہ راست قومی سطح کے رہنماؤں تک پہنچیں تو تعلیمی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ طلبہ اس مکالمے کو اپنی آواز ملک بھر تک پہنچانے کا ایک اہم پلیٹ فارم قرار دے رہے ہیں۔اشوک گہلوت کا الزام، راہل گاندھی کے پروگرام سے بی جے پی بوکھلا گئیراجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے الزام لگایا ہے کہ راہل گاندھی کے کوٹا دورے اور طلبہ سے مکالمہ پروگرام سے بی جے پی بوکھلا گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی نوجوانوں اور طلبہ کے مسائل کو اجاگر کر رہے ہیں، اسی لیے ان کے پروگرام کو متاثر کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ گہلوت نے دعویٰ کیا کہ ملک میں متعدد پیپر لیک کے واقعات سامنے آ چکے ہیں اور نوجوانوں کا مستقبل خطرے میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کے مسائل پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے اور ایسے افسوسناک حالات کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔کانگریس کا دعویٰ، رکاوٹوں کے باوجود کوٹا مہاریلی کامیاب ہوگیکانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ کوٹا میں راہل گاندھی کے پروگرام کو متاثر کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، تاہم پارٹی کا کہنا ہے کہ تمام رکاوٹوں کے باوجود مہاریلی کامیاب ہوگی۔ کانگریس ترجمان راگنی نایک نے کہا کہ نوجوانوں کے مسائل، خصوصاً پیپر لیک اور امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف راہل گاندھی مسلسل آواز بلند کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق کوچنگ مراکز اور طلبہ پر دباؤ ڈالے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، لیکن اس کے باوجود نوجوان بڑی تعداد میں پروگرام میں شرکت کے لیے پہنچ رہے ہیں۔ کانگریس کا دعویٰ ہے کہ ’’چھاتروں کی گونج‘‘ مہم ملک بھر کے طلبہ کے مسائل کو قومی سطح پر نمایاں کرے گی۔