شری رام مندر کی عطیہ رقم میں غبن کے معاملے کے درمیان ایک اور بڑا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ دھرم سینا کے بانی اور شری رام مندر تحریک سے وابستہ رہے سنتوش دوبے نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک و بیرون ملک سے عقیدت کے ساتھ ایودھیا لائی گئیں سونے، چاندی، ہیرے اور اشٹ دھاتو کی 1250 شری رام شیلائیں غائب ہو چکی ہیں۔ یہ ہر کسی کو سکتے میں ڈال دینے والا الزام ہے۔ ہندی نیوز پورٹل ’امر اجالا‘ پر شائع خبر کے مطابق سنتوش نے تھانے میں تحریری شکایت دی ہے۔ اس میں انہوں نے غبن کے معاملے میں ٹرسٹ کے عہدیداروں اور ملازمین پر الزامات عائد کیے ہیں۔’رام مندر محفوظ نہیں تو ملک کا کیا حال ہوگا؟‘ سماجوادی پارٹی کا بی جے پی پر سخت حملہسنتوش کے مطابق یہ شیلائیں ڈھائی دہائی قبل تک کارسیوک پورم میں تھیں۔ ساتھ میں مٹی کی بھی شیلائیں رکھی گئی تھیں۔ اب وہاں صرف مٹی کی شیلائیں ہیں، جبکہ قیمتی شیلائیں غائب ہو چکی ہیں۔ سنتوش کا کہنا ہے کہ سونے، چاندی، ہیرے اور اشٹ دھاتو کی شیلاؤں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری کی تھی۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ ذمہ داری طے ہونے کے بعد بھی یہ شیلائیں کہاں غائب ہو گئیں؟سنتوش نے بتایا کہ 1989 میں شری رام مندر تحریک کے دوران مہم چلا کر گھر گھر سے چندہ اکٹھا کیا گیا تھا۔ پوجی گئی شیلائیں بھی مانگی گئی تھیں، جن کا استعمال مندر کی تعمیر میں ہونا تھا۔ انہیں ہیرے، سونے، چاندی اور اشٹ دھاتو کی شیلاؤں کا موازنہ اور حساب کتاب تیار کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ اس کام میں ان کے ساتھ سنگھ کے کئی عہدیدار بھی شامل تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تب سب سے قیمتی شیلا ماریشس سے آئی تھی۔ اس کے علاوہ کئی تاجروں نے سونے اور ہیرے سے جڑی ہوئی شیلائیں بھی دی تھیں۔سنتوش نے مزید بتایا کہ 5 فروری 2020 کو ’شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ‘ بنا تھا۔ ’نیاس‘ کو اسی میں ضم کر دیا گیا تھا۔ اس دوران ٹرسٹ کے کھاتے میں 8.50 کروڑ روپے دکھائے گئے تھے۔ ان کا الزام ہے کہ اس وقت بھی قیمتی شیلاؤں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا تھا۔ سنتوش نے براہ راست جنرل سکریٹری چمپت رائے پر الزامات عائد کیے ہیں۔ حالانکہ سنتوش نے جو الزامات عائد کیے ہیں، ان کی کوئی آفیشیل تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ یہ صرف ان کے زبانی الزامات ہیں۔ اب دیکھنا ہوگا کہ پولیس ان کی تحریری شکایت پر کارروائی کرتی ہے یا نہیں۔رام جنم بھومی معاملے کے فریق رہے مہنت دھرم داس نے کہا کہ مندر تحریک اور مقدمے لڑنے والے بہت سے لوگوں کو مندر کے انتظامات سے دور رکھا گیا، جبکہ انتظام کچھ ہی لوگوں کے ہاتھوں میں سمٹ کر رہ گیا۔ پورے معاملے کی جانچ سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہونی چاہیے۔ جن مشتبہ افراد کو پکڑا گیا تھا، انہیں ٹرسٹ آفس کے بیسمنٹ میں رکھا گیا ہے۔ ٹرسٹ کے عہدیداروں نے ایس آئی ٹی کو ان کے بارے میں معلومات فراہم کی ہیں اور یہ بھی بتایا ہے کہ مبینہ رقم کس طرح برآمد کی گئی۔ ویڈیو ریکارڈنگ بھی کرائی جا رہی ہے۔