اتراکھنڈ میں ’دیو بھومی فیملی ایکٹ‘ نافذ، اب ہر خاندان کو ملے گی یونیک آئی ڈی

Wait 5 sec.

اتراکھنڈ میں 15 سال سے مقیم سبھی شہریوں کو اب ’دیو بھومی فیملی آئی ڈی‘ ملے گی۔ اس کے لیے گورنر نے ’دیو بھومی فیملی ایکٹ 2026‘ کو منظوری دے دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ قانون نافذ ہو گیا ہے۔ اس کے تحت اب تمام شہریوں کا مرکزی ڈیٹا بیس بنایا جائے گا۔ اس کی خلاف ورزی کرنے والے کو 10 سال قید اور 50 لاکھ روپے جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔اتراکھنڈ کے ٹہری میں پیش آیا خوفناک سڑک حادثہ، 300 میٹر گہری کھائی میں گری گاڑی، 8 کی موت، وزیر اعلیٰ کا اظہار افسوساطلاعات کے مطابق ’دیو بھومی فیملی ایکٹ‘ کے تحت اب ہر خاندان کو ایک یونیک فیملی آئی ڈی دی جائے گی۔ حکومتی حلقوں میں کہا جارہا ہے کہ اس پہل کا مقصد ریاست کے تمام خاندانوں کا مربوط اور تصدیق شدہ ڈیٹا تیار کرنا ہے، جس سے سرکاری اسکیموں کے فوائد مستحقین تک آسانی سے پہنچ سکیں۔اس نئے نظام کے تحت ہر خاندان کو ایک منفرد شناختی نمبر دیا جائے گا، جو اس خاندان کی ڈیجیٹل شناخت کا کام کرے گا۔ اس آئی ڈی میں خاندان کے تمام افراد کے بارے میں اہم معلومات درج ہوں گی، جیسے نام، عمر، آدھار سے متعلق معلومات، سماجی و اقتصادی حیثیت، تعلیم اور روزگار وغیرہ۔’اتراکھنڈ اور مدھیہ پردیش میں مدارس کے خلاف ریاستی حکومتوں کی مہم ناانصافی پر مبنی‘حکومت کا خیال ہے کہ اس قدم سے اسکیموں کے نفاذ میں شفافیت آئے گی اور استفادہ کرنے والوں کو دھوکہ دہی سے بچایا جاسکے گا۔ اس سے قبل مختلف اسکیموں میں ڈپلیکیٹ یا نااہل افراد کو فوائد ملنے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں لیکن اب یونیفائیڈ ڈیٹا بیس بننے سے اس طرح کی بے ضابطگیوں پر قابو پایا جاسکے گا۔ اس ایکٹ کی ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ خاندان کی شناخت میں خواتین کو ترجیح دی گئی ہے۔ قواعد کے مطابق 18 سال یا اس سے زیادہ عمر کے خاندان کی سب سے سن رسیدہ خاتون کو خاندان کا سربراہ مانا جائے گا۔ اسے خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت میں اہم قدم بتایا جارہا ہے۔دیو بھومی فیملی آئی ڈی کو مختلف سرکاری اسکیموں سے منسلک کیا جائے گا۔ اس سے اہل خاندانوں کو اسکیموں کے فوائد حاصل کرنے کے لیے بار بار دستاویزات جمع کرانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ایک ہی آئی ڈی کے ذریعہ تمام اسکیموں کی معلومات اور فوائد حاصل کئے جاسکیں گے۔ اس اسکیم کے تحت حکومت پوری ریاست کے لیے ایک جامع ڈیجیٹل ڈیٹا بیس بنا رہی ہے، جس میں دیہی اور شہری دونوں علاقوں کے خاندانوں کی معلومات شامل ہوں گی۔ اس سے انتظامی کام میں تیزی آئے گی اور فائدہ اٹھانے والوں کی زیادہ درست شناخت کو یقینی بنایا جاسکے گا۔کہا جارہا ہے کہ یہ نظام ہریانہ کی ’فیملی شناختی کارڈ‘ اسکیم کی طرز پر تیار کیا گیا ہے، جہاں ایک ہی آئی ڈی کے ذریعے شہریوں کو متعدد خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔ مجموعی طور پر’دیو بھومی فیملی ایکٹ‘ کو ریاست میں ڈیجیٹل گورننس کو مضبوط بنانے اور سرکاری اسکیموں کو مزید موثر بنانے کی سمت اہم قدم ثابت ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔