کون سے جانور چین کی ’’جاسوسی‘‘ کر رہے ہیں؟ بڑی خبر

Wait 5 sec.

بیجنگ (14 جون 2026): چین نے الزام عائد کیا ہے کہ کئی غیر ملکی ایجنسیاں اس کی جاسوسی کے لیے جانوروں کی مدد لے رہی ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق چین کی وزارتِ ریاستی سلامتی کا کہنا ہے غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیاں چین کے سمندری علاقوں کی نگرانی کیلیے جدید اور غیر روایتی طریقے استعمال کر رہی ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق چین کی وزارتِ ریاستی سلامتی کا کہنا ہے غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیاں چین کے سمندری علاقوں کی نگرانی کیلیے جدید اور غیر روایتی طریقے استعمال کر رہی ہیں۔چینی وزارت ریاست سلامتی کے مطابق چین کی جن آلات سے جاسوسی کی جا رہی ہے، ان میں سینسرز سے لیس جاسوس جانور بھی شامل ہیں۔متعلقہ وزارت کا کہنا ہے کہ کچھوے اور مچھلیوں پر سینسرز نصب کیے گئے ہیں۔ یہ جانور پانی کے درجہ حرارت، نمکیات اور بہاؤ کی سمت سمیت حساس معلومات حقیقی وقت میں جمع کرتے اور انہیں سیٹلائٹ کے ذریعے بیرونِ ملک منتقل کرتے ہیں۔چینی وزارت ریاست سلامتی کا کہنا ہے کہ جدید جاسوسی آلات کے ذریعے حساس معلومات اکٹھا کرنے کا یہ عمل قومی سلامتی کیلیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔