آبنائے ہرمز میں 3 ہندوستانی ملاحوں کی موت پر امریکی رویے اور وزیر اعظم مودی کی خاموشی پر راہل گاندھی نے اٹھائے سوال

Wait 5 sec.

آبنائے ہرمز میں 3 ہندوستانی ملاحوں کی موت کے بعد لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے مرکزی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کے ذریعے امریکی رویے پر سوالات اٹھائے اور الزام عائد کیا کہ اس واقعے کے بعد بھی امریکہ کی جانب سے نہ تو کسی افسوس کا اظہار کیا گیا اور نہ ہی معافی مانگی گئی۔अमेरिकी हमलों में तीन भारतीय नाविकों की हत्या के चंद दिन बाद - न अफ़सोस, न माफ़ी। उल्टा, अमेरिका ने आदेश देना जारी रखा है।उनके शब्द पढ़िए: “अमेरिकी सेना के आदेश तुरंत मानें।” कोई उल्लंघन “बर्दाश्त नहीं किया जाएगा।”एक आज़ाद देश इस तरह की भाषा कभी नहीं सहेगा। लेकिन हमारे…— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) June 14, 2026راہل گاندھی نے اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں کہا کہ امریکی حملوں میں 3 ہندوستانی ملاحوں کی موت کے چند ہی دنوں بعد امریکہ کی طرف سے تعزیت کا اظہار کرنے کے بجائے حکم چلانے والی زبان استعمال کی گئی۔ انہوں نے امریکی بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے واضح کیا ہے کہ ’’امریکی فوج کے احکامات پر فوری عمل کیا جائے اور کسی بھی قسم کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔‘‘کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ کوئی بھی آزاد اور خود دار ملک اس طرح کی زبان کو قبول نہیں کرے گا۔ راہل گاندھی کے مطابق کسی بھی خودمختار ملک کے لیے یہ بات قابل قبول نہیں ہے کہ اس کے شہریوں کی موت کے بعد بھی اس سے حکم چلانے والے لہجے میں بات کی جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس پورے معاملے میں وزیر اعظم نریندر مودی خاموش ہیں اور امریکہ کی ہدایات پر عمل کر رہے ہیں۔ راہل گاندھی نے کہا کہ حکومت کو ملک کے وقار اور شہریوں کے تحفظ کے معاملے پر اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے ’کمپرومائزڈ پی ایم‘ لفظ استعمال کیا۔ انہوں نے لکھا کہ وزیر اعظم ملک کے وقار کا تحفظ نہیں کریں گے، کیونکہ جو لوگ ملک کی توہین کرتے ہیں، وہی ان پر اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ کانگریس رہنما نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ وزیر اعظم امریکہ کی بات ایک ’فرمانبردار خادم‘ کی طرح سنتے ہیں اور اس کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں۔ راہل گاندھی کا یہ تبصرہ براہ راست مرکزی حکومت کی خارجہ پالیسی اور اس پورے واقعے پر اس کے موقف پر سوال اٹھاتا ہے۔