واشنگٹن (14 جون 2026): امریکی میڈیا کا کہنا ہے ایران نے جن زیر زمین ایٹمی تنصیبات میں انتہائی افزودہ یورینیم محفوظ کیا ہوا ہے، انھیں سیل کر کے ان تک پہنچنے کے راستوں پر بارودی سرنگیں نصب کر دی ہیں۔سی این این نے امریکی انٹیلیجنس ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے حالیہ ہفتوں میں بم بنانے کے درجے کے قریب اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کو محفوظ بنانے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے ہیں۔ زیر زمین سرنگوں کو منہدم کر کے داخلی راستوں پر بارودی سرنگیں نصب کر دیں۔تقریباً نصف ٹن انتہائی افزودہ یورینیم تک رسائی اب پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل، خطرناک اور وقت طلب ہو گئی ہے۔ بین الاقوامی اندازوں کے مطابق اس ذخیرے کا بڑا حصہ اصفہان جوہری تنصیب کی منہدم شدہ سرنگوں میں موجود ہے، جب کہ کچھ مواد دیگر مقامات پر بھی رکھا گیا ہے۔سی این این نے مزید بتایا کہ امریکی فورسز نے مئی میں ایران سے افزودہ یورینیم نکالنے کے لیے زمینی آپریشن کی تیاری کر لی تھی، لیکن صدر ٹرمپ نے پھر اس آپریشن کو روک دیا تھا۔14 جون کو معاہدے پر دستخط کیوں؟ پاسداران انقلاب نے ٹرمپ کا راز فاش کر دیاایران کی جانب سے کی گئی یہ نئی مضبوط حفاظتی تیاریاں ٹرمپ انتظامیہ اور تہران کے درمیان مجوزہ معاہدے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں، جس کے تحت یورینیم کو نکال کر تباہ کیا جانا ہے۔ اس اقدام نے یہ سوال بھی پیدا کر دیا ہے کہ اس خطرناک مواد کو نکالنے کی ذمہ داری آخر کون سنبھالے گا۔واضح رہے کہ ٹرمپ بارہا کہہ چکے ہیں کہ جاری مذاکرات میں اس مواد کو محفوظ بنانا امریکا کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان مذاکرات کا مقصد جنگ کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے، جسے ایران نے عملاً بند کر رکھا ہے۔متعدد ذرائع کے مطابق خود ایرانیوں کے لیے بھی اب اس افزودہ مواد کو نکالنا مشکل اور خطرناک ہوگا۔ اس کے لیے بھاری کھدائی کی مشینری اور بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانے کی کارروائی درکار ہوگی، جو ایک مشکل اور پرخطر کام ہے۔2017 سے 2021 تک امریکی نیشنل نیوکلیئر سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن کے دفتر برائے جوہری مواد کی منتقلی کے سربراہ رہنے والے اسکاٹ روئکر نے کہا ’’اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو یقیناً انتہائی افزودہ یورینیم کو واپس حاصل کرنا مزید پیچیدہ ہو جائے گا۔‘‘ انھوں نے کہا کہ یہ صورت حال ایران کو اپنے وعدوں پر عمل درآمد کے حوالے سے ابہام پیدا کرنے کا موقع بھی فراہم کر سکتی ہے۔روئکر کے مطابق اگر مذاکرات کار یہ شرط عائد کریں کہ ایران اپنے پورے ذخیرے کو تصدیق اور بالآخر منتقلی یا کم افزودگی کے لیے ایک مرکزی مقام پر لائے، تو پھر تہران پر یہ ذمہ داری عائد ہوگی کہ وہ اس مواد تک رسائی حاصل کرے اور افزودہ یورینیم کی مکمل فہرست فراہم کرے۔ تاہم ایسی صورت میں خدشہ ہے کہ ایران دعویٰ کر سکتا ہے کہ انتہائی افزودہ یورینیم کا کچھ حصہ نکالنا ممکن نہیں رہا۔