افغانستان: غذائی امداد کی دشوار گزار راہیں

Wait 5 sec.

افغانستان اس وقت ایک ایسے ہمہ جہت انسانی بحران کی گرفت میں ہے جہاں مسلسل آنے والے سیلابوں، زلزلوں، بڑھتی ہوئی غربت اور عالمی فنڈنگ میں تشویشناک کمی نے مل کر ایک تزویراتی تعطل پیدا کر دیا ہے۔ ان حالات میں ورلڈ فوڈ پروگرام کا مشن محض ایک لاجسٹک مشق نہیں، بلکہ فاقہ کشی کے خلاف ایک ناگزیر دفاعی حصار اور علاقائی استحکام کی کلید ہے۔ حال ہی میں انڈونیشیا کی جانب سے 35 لاکھ امریکی ڈالر کے عطیہ کے تحت 397 میٹرک ٹن مقوی بسکٹوں کی ترسیل اس بحران کی سنگینی کو واضح کرتی ہے۔ یہ امداد 172,000 افغان طلباء کے لیے محض ایک اضافی خوراک نہیں، بلکہ ان کی دن بھر کی واحد اور بنیادی غذائیت ہے جس پر ان کی بقا کا دارومدار ہے۔ عالمی سطح پر سیاسی تنہائی اور قدرتی آفات کے سنگم نے ’اسکول میل‘ (تعلیمی غذا) کی حیثیت کو ایک تعلیمی ترغیب سے بلند کر کے زندگی بچانے والی ضرورت میں تبدیل کر دیا ہے۔ تاہم، اس بقا کے سفر میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ جغرافیائی و سیاسی دیواریں ہیں جو امداد کے راستوں کو مسدود کر رہی ہیں۔جغرافیائی سیاست اور بند راستےافغانستان جیسے ’لینڈ لاکڈ‘ ملک کے لیے ٹرانزٹ روٹس محض تجارتی راستے نہیں بلکہ شہ رگ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جب دو طرفہ تعلقات میں بگاڑ آتا ہے تو جغرافیہ کو اکثر کمزور طبقات کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کی امدادی کھیپ کے لیے اصل منصوبہ پاکستان کی کراچی بندرگاہ کا استعمال تھا، لیکن دونوں ممالک کے درمیان حالیہ شدید تناؤ کے باعث سرحد کی بندش نے اس روایتی راستے کو ناقابلِ استعمال بنا دیا۔ اس کے بعد جب متبادل کے طور پر ایران اور آبنائے ہرمز کا رخ کیا گیا، تو امریکہـ اسرائیل اور ایران جنگ کی وجہ سے  مغربی ایشیا  میں پھیلی علاقائی عدم استحکام کی لہر نے اس گزرگاہ کو بھی بند کر دیا۔ جیسا کہ ورلڈ فوڈ پروگرام کی سپلائی چین ڈائریکٹر کورین فلیشر کا موقف ہے، ’بھوک راستوں کے کھلنے کا انتظار نہیں کرتی۔‘ ان رکاوٹوں نے لاجسٹک ماہرین کو ایسے غیر معمولی اقدامات پر مجبور کیا جو عالمی امداد کی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہیں۔پندرہ ہزار کلومیٹر لمبی نئی راہداریجب روایتی بحری اور زمینی راستے مسدود ہوئے، تو لاجسٹک ماہرین نے نقشوں پر ایک نئی اور پیچیدہ راہداری تشکیل دی جو انڈونیشیا سے شروع ہو کر 15 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتی ہوئی کابل پہنچتی ہے۔ یہ مہم دبئی سے 21 ٹرکوں کے قافلے کی صورت میں شروع ہوئی، جس نے نو ممالک کی سرحدوں اور مختلف جغرافیائی خطوں کو عبور کیا۔ یہ طویل ترین راستہ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، اردن، شام، ترکیہ اور جارجیا سے ہوتا ہوا آذربائیجان کے شہر باکو پہنچا، جہاں سے اسے فیری کے ذریعے بحیرہ کیسپین پار کروا کر ترکمانستان پہنچایا گیا۔ سات سرحدوں پر کسٹم کلیئرنس، سیکورٹی اسسمنٹ اور بے پناہ اخراجات کے باوجود یہ قافلہ طورغنڈی کے راستے افغانستان میں داخل ہوا۔ ایک ترک ٹرک ڈرائیور کی 11 گھنٹے کی روزانہ کی مسافت اور ٹرک کے کیبن میں بسر کی گئی راتیں اس وقت ثمر آور ثابت ہوئیں جب یہ بسکٹ غور، نورستان اور پکتیکا جیسے دور دراز صوبوں کے بچوں تک پہنچے۔ کابل کے گودام میں اس سامان کی وصولی پر عبدالاحد منیب کے اطمینان بھرے تاثرات اس عظیم جدوجہد کی کامیابی کی علامت ہیں۔افغان خواتین کی حالتِ زاراگست 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ہی افغان معاشرہ سخت گیر سماجی پابندیوں کے ذریعے آزمایا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کے منظر نامے میں خواتین کی تعلیم اور ملازمت پر پابندی کے بعد اب لباس کے ضوابط (برقع، چادر اور ماسک کا لازمی استعمال) اور عطر لگانے پر پابندی جیسے اقدامات نے تشویش کی ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے۔ حال ہی میں صوبہ ہرات میں لباس کے ضوابط کی خلاف ورزی کے الزام میں کم از کم 30 خواتین کی گرفتاری پر یو این ویمن نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے نمائندوں کے مطابق، ان گرفتاریوں کا اثر محض انفرادی نہیں بلکہ مجموعی طور پر پورے معاشرے پر پڑ رہا ہے۔ افغانستان میں زیرِ حراست رہنے والی خواتین کے ساتھ جڑی ’سماجی بدنامی‘ (اسٹگما) ان کے لیے رہائی کے بعد بھی اپنے خاندانوں اور برادریوں میں مزید تشدد اور تنہائی کا خطرہ پیدا کر دیتی ہے، جو ایک گہرا نفسیاتی اور سماجی المیہ ہے۔مستقبل کا تناظرافغانستان کی موجودہ صورتحال ایک ایسے مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں بقا کے امکانات بیرونی لاجسٹک ناکہ بندیوں اور اندرونی انسانی حقوق کی پامالیوں کے درمیان پس رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ماہرین نے 9 جون کو ہرات میں لباس کی پابندیوں کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران طاقت کے ’وحشیانہ استعمال‘ پر شدید احتجاج کیا ہے، جہاں فائرنگ کے نتیجے میں ایک لڑکے سمیت دو افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوئے۔ بین الاقوامی برادری کا مطالبہ واضح ہے: زیرِ حراست خواتین کو فوری رہا کیا جائے، بدسلوکی کا تدارک ہو اور زخمیوں کو طبی امداد تک بلاتعطل رسائی دی جائے۔ افغانستان کے طویل مدتی استحکام کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ طالبان حکام عالمی انتباہات کو تسلیم کرتے ہوئے انسانی حقوق کی صورتحال میں فوری بہتری لائیں اور امدادی راستوں کو سیاست سے پاک رکھیں۔ اگر ان انسانی اور تزویراتی پہلوؤں پر فوری توجہ نہ دی گئی تو افغانستان کی تنہائی اور انسانی المیہ ایک ناقابلِ واپسی موڑ پر پہنچ سکتا ہے۔