ایم او یو پر دستخط کی تقریب سوئٹزرلینڈ میں نہیں ہوگی، ایران

Wait 5 sec.

تہران (18 جون 2026): ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران میں ایم او یو پر دستخط کی تقریب سوئٹزرلینڈ میں نہیں ہوگی۔ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مذاکراتی ٹیموں کے جنیوا جانے کا سفر اپنی جگہ برقرار ہے۔ تاہم ایم او یو پر دستخط کی تقریب سوئٹزرلینڈ میں نہیں ہوگی۔ترجمان نے کہا کہ ایران امریکا مفاہمتی دستاویز کے متن کو باضابطہ طور پر حتمی شکل دے دی گئی اور فریقین نے مفاہمتی دستاویز پر دستخط بھی کر دیے ہیں۔اسماعیل بقائی نے کہا کہ معاہدے کے متن کا جائزہ لیں تو ہم نے اس دوران کوئی بات نہیں چھوڑی اور مفاہمتی دستاویز کے متن میں کم وبیش سب کچھ بیان کیا تھا۔ ایران نےثابت کیا کہ وہ دوستوں کو کسی حالت میں تنہا نہیں چھوڑے گا اور مفاہمتی دستاویز کے پہلے پیرا گراف میں لبنان کا نام تین بار آیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ متن میں لبنان کی علاقائی سالمیت اور قومی خود مختاری کے احترام کا ذکر ہے، اور لبنان میں جنگ بندی اور جنگ کا خاتمہ ایران کے لیے انتہائی اہم ہے۔ایرانی ترجمان نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے معاہدے پر دستخط کا یہ مطلب نہیں کہ ماضی کے تجربات بھول گئے۔ہم نے ماضی کے تجربات کی بہت بڑی قیمت چکائی ہے، اور ہمارا کام اب پہلے سے زیادہ مشکل ہے۔اسماعیل بقائی نے کہا کہ بین الاقوامی معاہدوں پر عمل درآمد، مسودہ تیار کرنے سے کہیں زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں ہوشیار رہنا ہوگا، جو وعدوں پرعمل نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ دوسرے فریق کو اپنے وعدوں پر عمل کرنے پر مجبور کرنا بہت ضروری ہے۔ ہمارا کام ختم نہیں ہوا بلکہ ابھی شروع ہوا ہے۔ ہمیں دوسری طرف سے وعدوں پر عمل درآمد کے بارے میں ہوشیار رہنا ہوگا۔ امریکا نے اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں تاخیر کی تو ہم بھی تاخیر کریں گے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ مفاہمتی دستاویز کے متن میں جوہری معاملے اور پابندیوں کے خاتمے پر مذاکرات کا زور ہے، لیکن ایران کا دانشمندانہ فیصلہ تھا کہ اس مرحلے پر جوہری مسئلے پر مذاکرات نہ کیے جائیں بلکہ اس مرحلے پر ہماری توجہ جنگ کو ختم کرنے پر تھی اور ہم نے ایسا ہی کیا۔امریکا اور ایران کے صدور نے مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کر دیےاسماعیل بقائی نے یہ بھی بتایا کہ ہم اب جوہری مسئلے اور پابندیوں کے خاتمے پر مذاکرات کریں گے۔ مفاہمتی دستاویز پر عمل درآمد کی تاریخ سے 60 دنوں کے اندر بات چیت کریں گے اور اس میں جوہری معاملے اور پابندیوں پر بات چیت کریں گے، اور اگر ضرورت پڑی تو وقت کو بڑھا بھی دیا جائے گا۔انہوں نے کہا دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ ایران کی دفاعی صلاحیت پر کسی بھی فریق کے ساتھ بات نہیں کی جائے گی۔ ہم نے شروع سے کہا ہے کہ افزودہ جوہری مواد ایران سے باہر منتقل نہیں کیا جائے گا۔ایمانوئل میکرون نے ایم او یو پر ٹرمپ کے دستخط کی ویڈیو شیئر کر دیایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بحری ناکا بندی 30 دن کے اندر ختم ہونی ہے اور ایران بدلے میں آبنائے ہرمز کو مکمل کھول دے گا۔اسماعیل بقائی نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کا انتظامی میکانزم عمان کے ساتھ تقریباً طے پا چکا ہے، صرف انتظام کے لیے طریقہ کار اور انتظامات مرتب کیے جا رہے ہیں۔ ایران آبنائے ہرمز میں دی جانے والی سہولتوں کے لیے فیس وصول کرے گا۔ایران کو بیلسٹک میزائل رکھنے سے منع کرنا نا انصافی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ کا بڑا بیان