رتبرت بنرجی ہی ہوں گے اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد، ٹی ایم سی کو ہائی کورٹ سے لگا جھٹکا

Wait 5 sec.

مغربی بنگال اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد کی تقرری کے معاملے میں کلکتہ ہائی کورٹ نے کوئی بھی عبوری حکم جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ہائی کورٹ کی ہدایات کے مطابق اسپیکر کا فیصلہ برقرار رہے گا۔ ترنمول کانگریس کے لیڈر شوبھن دیب چٹوپادھیائے نے حزب اختلاف کے قائد کے طور پر ٹی ایم سی کے باغی رکن اسمبلی رتبرت بنرجی کی تقرری کو چیلنج کیا ہے۔Setback for Mamata Banerjee: Calcutta High Court refuses to stay rebel TMC MLA's appointment as Leader of OppositionRead here: https://t.co/bh1vgGtaNt pic.twitter.com/xus9jcG8Na— Bar and Bench (@barandbench) June 18, 2026ٹی ایم سی کی طرف سے حزب اختلاف قائد کے لیے 2 نام بھیجے گئے تھے۔ شوبھن دیب چٹوپادھیائے کے نام کی تجویز ٹی ایم سی قیادت کے گروپ کی طرف سے بھیجی گئی تھی، جبکہ پارٹی کے باغی اراکین اسمبلی کے گروپ نے رتبرت بنرجی کا نام بھیجا تھا، جسے مغربی بنگال اسمبلی کے اسپیکر رتھیندر بسو نے قبول کر لیا اور انہیں حزب اختلاف کا قائد مقرر کر دیا۔کلکتہ ہائی کورٹ نے جمعرات (18 جون) کو شوبھن دیب چٹوپادھیائے کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسپیکر کے فیصلے پر کوئی عبوری حکم جاری نہیں کر رہا ہے۔ جسٹس کرشنا راؤ نے فریقین کو مخالفت میں حلف نامہ داخل کرنے اور 2 ہفتوں میں جواب دینے کی ہدایت دی ہے۔ اب اگلی سماعت 28 جولائی کو ہوگی۔ٹی ایم سی کے 58 باغی اراکین اسمبلی نے رتبرت بنرجی کو قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب کر لیا، اسپیکر کو حمایتی خط سونپامنگل کو سماعت کے دوران جسٹس کرشنا راؤ نے پوچھا تھا کہ اگر ایک ہی سیاسی جماعت کی طرف سے 2 الگ الگ ناموں کی تجویز بھیجی جائے، تو اسپیکر کا فرض کیا ہوگا، کیا وہ ازخود نوٹس لیتے ہوئے فیصلہ کر سکتے ہیں یا فریقین کو سماعت کا موقع دینا ضروری ہوگا۔ اس پر اسپیکر کی جانب سے پیش ہونے والے ایڈوکیٹ بلودل بھٹاچاریہ نے دلیل دی کہ مغربی بنگال اسمبلی مراعات ایکٹ، 1937 کے مطابق حزب اختلاف کا قائد وہی رکن ہوتا ہے جسے ایوان میں سب سے بڑی تعداد والی اپوزیشن پارٹی کے لیڈر کے طور پر تسلیم کیا گیا ہو۔ایڈوکیٹ بلودل بھٹاچاریہ نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر کسی پارٹی کے پاس اراکین کی تعداد یا اس کے لیڈر سے متعلق کوئی تنازعہ ہوتا ہے، تو اس معاملے میں اسپیکر کا فیصلہ آخری اور حتمی ہوگا۔ دوسری طرف اراکین اسمبلی کے جعلی دستخطوں کا معاملہ بھی سرخیوں میں ہے، جو حزب اختلاف کے قائد کی تقرری سے ہی منسلک ہے۔ الزام ہے کہ ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ اور پارٹی کے جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی کی طرف سے حزب اختلاف کے قائد کے لیے بھیجے گئے شوبھن دیب چٹوپادھیائے کے نام کی تجویز پر اراکین اسمبلی کے دستخط جعلی ہیں۔کلکتہ ہائی کورٹ سے ٹی ایم سی کو نہیں ملی راحت، رتبرت بنرجی بنے رہیں گے اپوزیشن لیڈر، 16 جون کو اگلی سماعتجعلدی دستخط معاملے پر سب سے پہلے رتبرت بنرجی اور سندیپن ساہا نے ہی سوالات اٹھائے اور شکایت کی، جس کے بعد معاملہ گرما گیا۔ اراکین اسمبلی کی شکایت کے بعد اسمبلی سکریٹری نے ایف آئی آر درج کرائی، جس کے بعد مغربی بنگال کے کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) نے معاملے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہے۔ جن اراکین اسمبلی کے نام متنازعہ دستاویزات پر ہیں، ان کے بیانات درج کیے جا رہے ہیں اور دستخطوں کے نمونے بھی لیے جا رہے ہیں۔