واشنگٹن (14 جون 2026): ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف اہم عدالتی فیصلے پر عمل درآمد ہو گیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام کینیڈی سینٹر کی عمارت سے ہٹا دیا گیا۔امریکی میڈیا کے مطابق ضلعی جج کرسٹوفر کوپر کے فیصلے کے بعد کینیڈی سینٹر کی عمارت اور ویب سائٹ سے ڈونلڈ ٹرمپ کا نام ہٹا دیا گیا، کینیڈی سینٹر کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ عدالتی حکم کی تعمیل کے لیے عمارت کے اندر اور باہر موجود ڈونلڈ ٹرمپ کے تمام حوالہ جات، نیز آن لائن موجود تمام تذکرے، ہٹا دیے گئے ہیں۔کینیڈی سینٹر کو عدالتی حکم پر عمل درآمد کے لیے آج تک کی مہلت دی گئی تھی، امریکی اپیلز کورٹ نے نام ہٹانے سے روکنے کی درخواست مسترد کر دی تھی، عدالتی فیصلے مطابق کانگریس نے کینیڈی سینٹر نام رکھا صرف وہی تبدیل کر سکتی ہے۔ہفتے کی صبح سویرے تعمیراتی کارکنوں نے عمارت کے بیرونی حصے سے امریکی صدر کا نام اتارنا شروع کیا تھا۔ 6 ماہ قبل ٹرمپ کی جانب سے منتخب کردہ ایک بورڈ نے ووٹنگ کے ذریعے واشنگٹن ڈی سی میں واقع اس مشہور پرفارمنگ آرٹس مرکز کو ان کے نام سے منسوب کرتے ہوئے اس کی ’ری برانڈنگ‘ کا فیصلہ کیا تھا۔امریکی صدر ٹرمپ کا ایران کیساتھ کل معاہدے پر دستخط کرنے کا اعلانتاہم گزشتہ ماہ ایک وفاقی جج نے حکم دیا کہ 12 جون تک امریکی صدر کا نام ہٹا دیا جائے۔ جج نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ مرکز کے بورڈ کو یک طرفہ طور پر عمارت کا نام تبدیل کرنے کا اختیار حاصل نہیں تھا۔29 مئی کو امریکی ضلعی جج کرسٹوفر کوپر نے لکھا ’’کانگریس نے کینیڈی سینٹر کو اس کا نام دیا تھا، اور صرف کانگریس ہی اسے تبدیل کر سکتی ہے۔‘‘ جج کے حکم کو روکنے کی آخری کوشش کے طور پر اِس مقام کی انتظامیہ نے جمعرات کی رات دیر گئے اس حکم کو معطل کروانے کی درخواست دی۔ تاہم جج نے جمعہ کے روز، ٹرمپ کا نام ہٹانے کی مقررہ آخری تاریخ سے چند گھنٹے قبل، اس درخواست کو مسترد کر دیا۔درخواست گزار نے عدالت کے سامنے اس مقدمے میں پہلی بار انکشاف کیا کہ اگر عمارت سے ٹرمپ کا نام ہٹایا گیا تو اسے تزئین و آرائش کے لیے جمع کیے گئے کروڑوں ڈالر واپس کرنا پڑ سکتے ہیں، اور یہ کہ اس کے لیے سینٹر کے قواعد و ضوابط میں ایک تبدیلی بھی کی گئی ہے۔درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ ’’اس شق کی وجہ یہ ہے کہ وہ افراد اور کمپنیاں جنھوں نے سینٹر کو لاکھوں ڈالر دیے ہیں یا مستقبل میں دیں گے، صرف اسی صورت میں ایسا کرنے پر آمادہ تھے جب عمارت پر ’ٹرمپ‘ کا نام موجود ہو۔‘‘تاہم درخواست میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ سینٹر کے قواعد و ضوابط میں یہ تبدیلی کب، کیسے اور کہاں کی گئی۔ واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے دوسری مدت کے آغاز پر کینیڈی سینٹر کا کنٹرول سنبھالا تھا۔