کانگو : ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایبولا وبا تاریخ کی بدترین ایبولا وباؤں میں سے ایک ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ موت کے بعد بھی متاثرہ جسم سے پھیل سکتا ہے۔تفصیلات کے مطابق افریقی ملک کانگو میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ میں مسلسل اور تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جہاں اب تک 830 سے زائد کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ اس مہلک وائرس کے باعث 196 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔افریقہ کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن نے دنیا بھر کو خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے سخت خبردار کیا ہے کہ اگر اس وائرس کو روکنے کے لیے فوری، ہنگامی اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ موجودہ لہر تاریخ کی بدترین ایبولا وباؤں میں سے ایک ثابت ہو سکتی ہے۔طبی ماہرین اور افریقی حکام کے مطابق ایبولا ایک انتہائی متعدی اور مہلک وائرس ہے جو انسانوں کی جسمانی رطوبتوں کے ذریعے ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہوتا ہے۔ماہرین نے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ یہ وائرس اتنا خطرناک ہے کہ کسی مریض کی موت کے بعد بھی اس کے متاثرہ جسم سے دوسرے صحت مند انسانوں میں منتقل ہونے اور پھیلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، جس کی وجہ سے تدفین کے عمل کے دوران بھی سخت احتیاط کی ضرورت ہے۔کانگو میں صحت کا عملہ عالمی اداروں کے ساتھ مل کر اس وبا پر قابو پانے کی کوششیں کر رہا ہے تاہم کیسز کی رفتار میں تاحال کمی نہیں آ سکی۔