نویں جماعت کے لیے ’سی بی ایس ای‘ کی سہ لسانی پالیسی پر فوری روک لگانے سے سپریم کورٹ کا انکار

Wait 5 sec.

نویں جماعت میں 2 ہندوستانی زبانوں سمیت کل 3 زبانیں پڑھانے کی ’سی بی ایس ای‘ کی نئی پالیسی پر فوری روک لگانے سے سپریم کورٹ نے انکار کر دیا ہے۔ عدالت کی ویکیشن بنچ نے نئی درخواست پر فوری مداخلت کرنے سے منع کر دیا۔ بنچ نے کہا کہ اسی معاملے کو لے کر داخل کی گئیں دیگر درخواستوں کو 14 جولائی کو سماعت کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ کوئی بھی حکم تفصیلی سماعت کے بعد ہی جاری کیا جا سکتا ہے۔سپریم کورٹ نے ’فرینڈز آف پیپل فار ایکٹو ڈیموکریسی‘ نامی تنظیم کی طرف سے دائر اس درخواست کو بھی دیگر درخواستوں کے ساتھ سماعت کے لیے لگانے کی ہدایت دی ہے۔ اس سے قبل 27 مئی کو کورٹ نے سی بی ایس ای  اور این سی ای آر ٹی سے معاملے پر تفصیلی جواب طلب کیا تھا۔ عدالت نے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایشوریا بھاٹی سے نئی پالیسی کو نافذ کرنے کی تیاریوں پر رپورٹ پیش کرنے کے لیے بھی کہا تھا۔دگ وجے سنگھ نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر سی بی ایس ای کی ’سہ لسانی‘ پالیسی پر فوری روک لگانے کا کیا مطالبہگزشتہ سماعت میں عرضی گزاروں نے یکم جولائی 2026 سے شروع ہونے والے نئے سیشن میں اس پالیسی کو نافذ کرنے پر عبوری روک لگانے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن عدالت نے اس سے انکار کر دیا تھا۔ دہلی، گروگرام، نوئیڈا اور چنئی کے 19 سرپرستوں اور اساتذہ کی طرف سے داخل کی گئی عرضی میں کہا گیا ہے کہ 9 اپریل کو سی بی ایس ای نے کہا تھا کہ یہ پالیسی سیشن 30-2029 تک نافذ نہیں ہوگی، لیکن 15 مئی کو اچانک فیصلہ بدلتے ہوئے نیا حکم جاری کر دیا گیا۔عرضی گزاروں نے کہا ہے کہ سی بی ایس ای کے اس قدم سے طلبہ اور سرپرستوں میں الجھن اور تشویش پیدا ہوئی ہے۔ پہلے سے جاری پڑھائی کے درمیان ایک نئی زبان کو سیکھنا ان کے لیے مشکل ہے۔ اب تک کئی اسکولوں میں نصابی کتابیں اور تربیت یافتہ اساتذہ دستیاب نہیں ہیں۔ زبان ذاتی پسند کا معاملہ ہے۔ اسے زبردستی مسلط کرنا غلط ہے۔