بیجنگ(18 جون 2026): چین میں روبوٹ کو سڑک کنارے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر شہریوں سے پیسے مانگنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔چین کے صوبے سچوان میں ایک انوکھا اور سنسنی خیز واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک ہیومنائیڈ (انسان نما) روبوٹ کو سڑک کنارے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر شہریوں سے پیسے مانگتے دیکھا گیا۔ اس واقعے کی ویڈیو چینی سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق اس روبوٹ نے اپنے سامنے ایک خیراتی کٹورا اور ڈیجیٹل پیمنٹ کے لیے کیو آر کوڈ رکھ رکھا تھا، جبکہ ساتھ موجود ایک بورڈ پر لکھا تھا کہ میرے پاس ری چارجنگ کے لیے پیسے نہیں ہیں، براہ کرم بجلی کی فیس کے لیے میری مدد کریں۔رپورٹ کے مطابق اگرچہ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ حرکت کس کمپنی یا فرد کی جانب سے کی گئی، تاہم ماہرین نے اس روبوٹ کی شناخت ہانگژو سے تعلق رکھنے والی چینی روبوٹکس کمپنی ‘یونی ٹری روبوٹکس’ کے تیار کردہ ‘یونی ٹری جی ون’ ماڈل کے طور پر کی ہے۔چینی سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد صارفین کی جانب سے مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو روبوٹکس کی دنیا اور بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ پر ایک طنز ہے، جبکہ ایک مقامی شہری نے مذاقاً لکھا کہ اب تو بھکاریوں کی جگہ بھی روبوٹس لے رہے ہیں۔یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چینی روبوٹکس ٹیکنالوجی کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ رواں سال اپریل میں بیجنگ یژوانگ ہاف میراتھن کے دوران ایک تماشے کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں 300 سے زائد ہیومنائیڈ روبوٹس نے حصہ لیا۔تاہم، ریس شروع ہوتے ہی متعدد روبوٹس گر گئے، آپس میں ٹکرا گئے یا رکاوٹوں سے جا لگے، جس کے بعد انٹرنیٹ پر ان کا شدید مذاق اڑایا گیا تھا۔