افغانستان میں سرکاری ملازمین بڑی پابندی عائد

Wait 5 sec.

کابل (18 جون 2026): افغانستان میں قابض طالبان حکومت نے ملک بھر میں سرکاری ملازمین پر بڑی پابندی عائد کر دی ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق طالبان حکومت کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کی جانب سے سرکاری ملازمین کے اسمارٹ فونز کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی تھی اور اس حکمنامے پر بدھ سے عملدرآمد شروع ہو گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کی جانب سے اسمارٹ فونز پر پابندی کا خط گزشتہ ہفتے سوشل میڈیا پر وائرل ہونا شروع ہوا تھا اور اس خط پر افغان سپریم کورٹ کا مخصوص نشان بھی موجود تھا۔خط کے متن میں لکھا گیا ہے کہ ’تمام شعبوں کے سربراہان کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اپنے اسٹاف کو آگاہ کریں کہ اسمارٹ فون کا استعمال سختی سے ممنوع قرار دے دیا گیا ہے اور یہ 17 جون سے نافذ ہو گیا ہے۔‘خط میں فوجی اور سویلین محکموں کے تمام اہلکاروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس معاملے میں چُھوٹ صرف سپریم لیڈر ہی دے سکتے ہیں۔خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملازمین سے رابطہ اب ٹیلی فون اور ای میل کے ذریعے کیا جا سکے گا۔اس حوالے سے سرکاری ملازمین نے بتایا کہ انہیں متنبہ کیا گیا ہے کہ جو بھی اسمارٹ فون استعمال کرے گا، اس کو ملازمت سے نکالنے کے ساتھ قانونی کارروائی بھی کی جائے گی۔دریں اثنا غزنی صوبہ جو دارالحکومت کابل اور سپریم لیڈر کی رہائش گاہ (قندھار) کے درمیان واقع ہے، میں سرکاری ملازمین نے منگل کی شام سے ہی اپنے موبائل فون بند کرنا شروع کر دیے تھے۔