عالمی بازار میں خام تیل کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل سے نیچے آنے کے باوجود پٹرول اور ڈیزل سمیت دیگر ایندھن کی قیمتوں میں کوئی راحت نہ ملنے پر کانگریس نے مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پارٹی نے الزام لگایا ہے کہ حکومت خام تیل مہنگا ہونے پر قیمتوں میں اضافہ کر دیتی ہے، لیکن قیمتوں میں کمی آنے کے باوجود عوام کو اس کا فائدہ نہیں پہنچایا جاتا۔کانگریس نے اپنے بیان میں کہا کہ ’مہنگائی مین مودی‘ نے خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا حوالہ دے کر پٹرول، ڈیزل، سی این جی اور گھریلو گیس سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا، لیکن اب جبکہ خام تیل کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ چکی ہے، حکومت عوام کو کوئی راحت فراہم نہیں کر رہی۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ مودی حکومت کی پالیسی یہ ہے کہ جو چیز ایک بار مہنگی ہو جائے، وہ دوبارہ سستی نہیں ہوتی۔ کانگریس کے مطابق حکومت عوام سے زیادہ وصولی کر رہی ہے اور اس کا فائدہ اپنے امیر دوستوں کو پہنچا رہی ہے۔’جب خام تیل سستا ہوا، تو پٹرول-ڈیزل مہنگا کیوں؟‘ کھڑگے نے مودی حکومت پر منافع خوری کا سنگین الزام کیا عائددریں اثنا مرکزی وزیر مملکت برائے پٹرولیم سریش گوپی نے کہا ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں نرمی کے باوجود پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فوری کمی ممکن نہیں ہے۔ ان کے مطابق سستا خام تیل بحری جہازوں کے ذریعے ہندوستان پہنچنے میں وقت لیتا ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کا دباؤ بھی اس کی ایک وجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ایشیا میں حالیہ کشیدگی کے باعث تیل کمپنیوں کو تقریباً 12 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے، جس کی وجہ سے سپلائی نظام کو معمول پر آنے میں وقت لگے گا۔’مہنگائی مین کی وصولی تھم نہیں رہی‘، پٹرول-ڈیزل کی قیمتوں میں تازہ اضافہ کے بعد کانگریس کا پی ایم مودی پر حملہاس سے قبل مرکزی وزیر برائے پٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری نے کہا تھا کہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باوجود ملک میں خام تیل، مائع قدرتی گیس اور گھریلو گیس کی فراہمی پوری طرح مستحکم ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے بین الاقوامی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں کا مالی بوجھ خود برداشت کر کے شہریوں کو اس کے اثرات سے محفوظ رکھا ہے۔خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی کے بعد اب عوام کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا آنے والے دنوں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کسی قسم کی راحت ملتی ہے یا نہیں۔