واشنگٹن (16 جون 2026): برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ معاہدہ ہونے کی صورت میں ایران کے لیے 300 ارب ڈالر کے فنڈز پر غور کر رہی ہے۔فنانشل ٹائمز کے مطابق اگر تہران جنگ کے خاتمے کے لیے ایک حتمی معاہدے پر رضامند ہو جاتا ہے جس میں جوہری معاہدہ بھی شامل ہو، تو ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے لیے 300 ارب ڈالر کے سرمایہ کاری فنڈ کے قیام کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے۔ایک سینئر امریکی عہدیدار نے کہا کہ واشنگٹن نے پابندیوں میں نرمی اور ’’ملک کی تعمیرِ نو کے لیے 300 ارب ڈالر کے بڑے فنڈ‘‘ کے امکان پر بات چیت کی ہے۔ ان مراعات کا تعلق اس بات سے ہوگا کہ ایران سوئٹزرلینڈ میں جمعہ کے روز باضابطہ طور پر دستخط ہونے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی شرائط پر کس حد تک عمل کرتا ہے۔مذاکرات سے آگاہ ایک شخص نے بتایا کہ اس فنڈ کا قیام مفاہمتی یادداشت کے تحت طے پانے والے حتمی معاہدے سے مشروط ہوگا، اور یہ جنگ بندی میں مزید 60 دن کی توسیع، آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے اور جوہری معاہدے پر مزید مذاکرات کے بعد ممکن ہوگا۔300 ملین ڈالر کی ادائیگیدریں اثنا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح طور پر تردید کی ہے کہ امریکا نے ایران کو 300 ملین ڈالر ادائیگی کی ہے، انھوں نے کہا یہ فیک نیوز ہے، ڈیموکریٹس ڈیل سے متعلق ادائیگی کی جھوٹی کہانی پیش کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ ٹروتھ سوشل پر امریکی صدر نے لکھا ’’ایران نے جوہری ہتھیار کبھی نہ بنانے پر اتفاق کیا ہے، اور یہ خبر کہ امریکا ایران کو تین سو ملین ڈالر دے رہا ہے، جعلی خبر ہے جسے ڈیموکریٹس نے پھیلایا ہے۔‘‘انھوں نے مزید کہا کہ یہ فنڈ حکومتوں کی جانب سے فراہم نہیں کیا جائے گا بلکہ ان کمپنیوں کے لیے تشکیل دیا جائے گا جو تقریباً 9 کروڑ آبادی اور وافر توانائی وسائل رکھنے والے ایران میں سرمایہ کاری کی خواہش رکھتی ہیں۔ تاہم فنڈ کے ڈھانچے اور انتظامی طریقہ کار کے بارے میں فوری طور پر کوئی تفصیلات واضح نہیں ہیں۔ایران جوہری معاہدے پر عمل درآمد کرے گا یا نہیں، سی آئی اے شک و شکوک میں مبتلا ہو گئیذرائع نے کہا ’’یورپ، ایشیا، جنوبی کوریا، جاپان اور امریکی کمپنیوں سمیت بہت سے کاروباری حلقے دل چسپی رکھتے ہیں۔ اگر پابندیاں ہٹا دی جاتی ہیں تو یہ فنڈ بہت بڑی مالیت کا ہوگا۔‘‘دوسری طرف امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ 300 ارب ڈالر کا تعمیرِ نو فنڈ ایسی چیز ہو سکتی ہے جس تک ایران رسائی حاصل کر سکے، بشرطیکہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ ایران کے منجمد 24 ارب ڈالر کے اثاثے جاری کرنا معاہدے کے مسودے میں شامل نہیں، یہ تعمیراتی فنڈ خلیجی اتحادی ممالک کی جانب سے دیا جائے گا۔اخبار کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران کو دی جانے والی مالی مراعات کا حجم مذاکرات میں ایک متنازع موضوع رہا ہے۔ یہ معاملہ سیاسی طور پر بھی حساس سمجھا جاتا ہے کیوں کہ ٹرمپ نہیں چاہتے کہ انھیں ایرانی حکومت کو انعام دینے والا تصور کیا جائے۔ ٹرمپ ماضی میں بارک اوباما کی انتظامیہ کے 2015 کے جوہری معاہدے پر سخت تنقید کر چکے ہیں، جس کے تحت ایران کو وسیع پیمانے پر پابندیوں میں نرمی دی گئی تھی۔ ٹرمپ نے اس وقت الزام لگایا تھا کہ اوباما انتظامیہ نے تہران کو ’’نقد رقم کے ڈھیر‘‘ فراہم کیے۔تاہم، اب مفاہمتی یادداشت کے ناقدین کا کہنا ہے کہ زیرِ غور مالی مراعات اوباما دور کے معاہدے سے کہیں زیادہ بڑی ہو سکتی ہیں۔