ایران جوہری معاہدے پر عمل درآمد کرے گا یا نہیں، سی آئی اے شک و شکوک میں مبتلا ہو گئی

Wait 5 sec.

واشنگٹن (16 جون 2026): سی آئی اے کو اس حوالے سے بالکل بھی یقین نہیں ہے کہ ایران جوہری معاہدے پر عمل درآمد کرے گا۔امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسی کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ و دیگر اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا ہے کہ انٹیلی جنس جائزوں میں اس بات پر سنجیدہ شکوک پائے جاتے ہیں کہ آیا ایران کسی بھی ممکنہ معاہدے میں اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکا کی شرائط قبول کرے گا یا نہیں؟رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ خدشات امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے اعلان سے قبل ہونے والے اندرونی اجلاسوں میں سامنے آئے، ٹرمپ انتظامیہ کی قومی سلامتی کی ٹیم کے بعض اراکین بھی یہ سمجھتے ہیں کہ تہران معاہدے کی شرائط پر مکمل طور پر عمل نہیں کرے گا۔ذرائع کے مطابق ریٹکلف واحد شکی شخصیت نہیں ہیں، داخلی مشاورت کے دوران وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی اتوار کو اعلان کردہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے بارے میں خدشات اور سوالات اٹھائے، جب کہ نائب صدر جے ڈی وینس اور امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے اس کی حمایت کی۔امریکی ناکہ بندی ہٹ گئی، آبنائے ہرمز سے 5 ایرانی تیل بردار جہاز گزر گئےاتوار کے اعلان سے قبل صدر ٹرمپ اور ان کے مشیروں کے درمیان معاہدے کے حوالے سے کئی اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوئے۔ ان اجلاسوں میں امریکی انٹیلی جنس اداروں کی ایسی معلومات پر غور کیا گیا جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ ایرانی حکام آپس میں معاہدے کے بارے میں جس انداز میں گفتگو کر رہے تھے، وہ ثالثوں اور امریکا کو دیے گئے ان کے پیغامات سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ذرائع کے مطابق ریٹکلف اور روبیو نے کہا کہ اس انٹیلی جنس کی بنیاد پر اھہیں شک ہے کہ ایران وہ جوہری اقدامات قبول کرے گا جن کا امریکا مطالبہ کر رہا ہے۔ اس پر وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے کہا ’’صدر ٹرمپ ہر معاملے پر تمام آرا سنتے ہیں، لیکن سب جانتے ہیں کہ حتمی فیصلہ انہی کا ہوتا ہے۔ یہ مفاہمتی یادداشت انتظامیہ کی تمام بنیادی شرائط پوری کرتی ہے، کیوں کہ اس سے یہ یقینی بنایا گیا ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا، وہ اپنا اعلیٰ درجے کا افزودہ یورینیم برقرار نہیں رکھ سکے گا۔‘‘واضح رہے کہ اتوار کو دستخط ہونے والی مفاہمتی یادداشت کے جوہری نکات کا انحصار اس بات پر ہے کہ آئندہ 60 دنوں کے دوران فریقین ایک زیادہ تفصیلی جوہری معاہدے تک پہنچتے ہیں یا نہیں۔ اطلاعات کے مطابق جمعہ کو وینس، وٹکوف اور کشنر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے پاکستانی اور قطری ثالثوں کی موجودگی میں ملاقات کریں گے تاکہ اگلے مرحلے پر گفتگو کی جا سکے۔