کناڈا میں لارینس بشنوئی گینگ کے خلاف کارروائی، شوٹر کنگرا کو ڈیپورٹ کرنے کا فیصلہ، 400 مقدمات کی ہوگی جانچ

Wait 5 sec.

کناڈا میں ہندوستان کے بدنام زمانہ گینگسٹر لارینس بشنوئی گینگ سے منسلک ایک شوٹر کے خلاف سخت کارروائی کی گئی ہے۔ کناڈا کے امیگریشن اینڈ رفیوجی بورڈ نے بشنوئی گینگ کے لیے گولی چلانے والے ہندوستانی شہری ابجیت کنگرا کو ملک سے باہر نکالنے یعنی ڈیپورٹ کرنے کا حکم دیا ہے۔ابجیت کنگرا 2018 میں اسٹڈی پرمٹ پر کناڈا پہنچا تھا۔ الزام ہے کہ کناڈا پہنچنے کے بعد وہ دھیرے دھیرے بشنوئی گینگ کے رابطے میں آیا اور گینگ کے لیے کام کرنے لگا۔ جانچ ایجنسیوں کے مطابق اس نے برٹش کولمبیا کے کول ووڈ علاقہ میں ایک گھر پر بشنوئی گینگ کے اشارے پر فائرنگ کی تھی۔ ستمبر 2024 میں پیش آئی اس واردات میں کنگرا نے مبینہ طور پر متاثرہ کے گھر پر تقریباً 14 گولیاں چلائیں، جبکہ اس کے ساتھی نے گھر کے باہر کھڑی گاڑیوں میں آگ لگا دی تھی۔ یہ حملہ پنجابی گلوکار اے پی ڈھلوں کے گھر پر ہوا تھا۔واقعہ کے بعد بشنوئی گینگ نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کی تھی، جس میں فائرنگ کی ذمہ داری لینے کی کوشش کی گئی تھی۔ کناڈائی جانچ ایجنسی کے مطابق کنگرا کو ایک موونگ کمپنی میں کام کرنے کے دوران گینگ کے لوگوں نے اپنے ساتھ جوڑا۔ کنگرا نے سماعت کے دوران دعویٰ کیا کہ اسے صرف پیسے کا لالچ دے کر اس واردات میں شامل کیا گیا تھا اور اسے نہیں معلوم تھا کہ وہ بشنوئی گینگ کے لیے کام کر رہا ہے۔ اس نے کہا کہ وہ اپنے والدین کو پیسے بھیجنا چاہتا تھا اور اسی وجہ سے اس جرم میں شامل ہو گیا۔ حالانکہ کناڈا بارڈر سروس ایجنسی (سی بی ایس اے) نے کہا کہ منظم گینگ اپنے اراکین کو اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ چھوٹی سطح کے لوگ صرف اپنے اوپر والے شخص کو ہی جانتے ہیں۔امیگریشن بورڈ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بشنوئی گینگ ایک منظم مجرمانہ تنظیم ہے، جو قتل، گولی باری، آگ زنی، دھمکی اور جبراً وصولی جیسے جرائم میں شامل رہا ہے۔ کناڈائی ایجنسی کے مطابق بشنوئی گینگ نے وہاں ہندوستانی نژاد کے کاروباریوں، گلوکاروں اور دیگر لوگوں کو نشانہ بنا کر دھمکی بھرے کال، میسج اور سوشل میڈیا کے ذریعہ پیسے کا مطالبہ کیا۔ متاثرین کو تشدد اور ملکیت کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دی گئیں۔ کناڈا بارڈر سروس ایجنسی نے بتایا کہ ایکسٹارشن اور گینگ تشدد سے منسلک 400 سے زائد معاملوں کی جانچ شروع کی گئی ہے اور کئی مشتبہ افراد کو ملک سے باہر کیا جا چکا ہے۔جانچ ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ بشنوئی گینگ کی سرگرمیاں کناڈا کے برٹش کولمبیا، البرٹا، مینیٹوبا اور اونٹاریو جیسے علاقوں میں زیادہ فعال رہی ہیں۔ گینگ پر ڈرگ اسمگلنگ، قتل کی سپاری اور وصولی جیسے جرائم میں شامل ہونے کا الزام ہے۔ کناڈائی افسران نے یہ بھی کہا کہ جیل میں بند ہونے کے باوجود لارینس بشنوئی اپنے نیٹورک کو چلانے اور نئے نوجوانوں کو جوڑنے کی کوششیں کرتا رہا ہے۔قابل ذکر ہے کہ کنگرا فی الحال 6 سال کی سزا کاٹ رہا ہے۔ اس کے خلاف دوسرے حملہ سے جڑا معاملہ بھی چل رہا ہے۔ ڈیپورٹیشن حکم کے خلاف کنگرا اپیل کرنے کی تیاری میں ہے۔ اس نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر اسے ہندوستان بھیجا گیا تو بشنوئی گینگ اسے نقصان پہنچا سکتا ہے۔ حالانکہ امیگریشن بورڈ نے کہا کہ اس نے اپنے اس دعوے کی حمایت میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا۔اس پورے معاملے میں وکرم شرما نام کا مزید ایک ہندوستان شہری بھی ملزم ہے۔ الزام ہے کہ وہ کنگرا کے ساتھ اس حملہ میں شامل تھا۔ واردات کے بعد وکرم شرما کناڈا چھوڑ کر فرار ہو گیا اور اس کے ہندوستان فرار ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ کناڈائی ایجنسیاں اس کو زور و شور سے تلاش کر رہی ہیں۔