اوسلو : ناروے کی ولی عہد شہزادی کے بیٹے کو 4 سال قید کی سزا کے عدالتی فیصلے نے شاہی خاندان میں ہلچل مچا دی ہے۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ناروے کی ولی عہد شہزادی ’پرنسز میٹ میرٹ‘ کے صاحبزادے ماریئس بورگ ہوئیبی کو دو ریپ مقدمات میں مجرم قرار دیتے ہوئے چار سال قید کی سزا سنا دی گئی۔اوسلو کی عدالت نے 29 سالہ ماریئس بورگ ہوئیبی کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کو جنسی زیادتی کے دو الزامات میں قصور وار قرار دیا، عدالتی فیصلے کے بعد وہ سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ملزم ماریئس بورگ ہوئیبی 13 جنوری 1997 کو ناروے کے شہر کرسٹیان سینڈ میں پیدا ہوا، وہ ولی عہد شہزادی پرنسز میٹ میرٹ اور ان کے سابق ساتھی مورٹن بورگ کا بیٹا ہے۔اگرچہ اس کی والدہ نے 2001 میں ناروے کے ولی عہد ہاکون سے شادی کر لی تھی، تاہم ماریئس کو کوئی شاہی لقب حاصل نہیں اور نہ ہی وہ شاہی جانشینی کی فہرست میں شامل ہے۔مجرم کے سوتیلے بہن بھائیوں میں شہزادی انگرڈ الیگزینڈرا شامل ہے جو ناروے کے تخت کی متوقع وارث سمجھی جاتی ہیں، جبکہ اس کے بھائی پرنس سویری میگنس بھی شاہی خاندان کا حصہ ہیں۔عدالتی دستاویزات کے مطابق ماریئس بورگ ہوئیبی کو پہلی مرتبہ اگست 2024 میں اوسلو کے علاقے فروگنر میں گھریلو تشدد کے ایک واقعے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔بعد ازاں تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے پولیس نے اس کے خلاف مجموعی طور پر 40 الزامات کی چھان بین کی، جن میں ریپ، منشیات سے متعلق جرائم اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں شامل تھیں۔جون 2025 میں مقدمہ استغاثہ کے حوالے کیا گیا جبکہ اگست 2025 میں باضابطہ فردِ جرم عائد کی گئی۔ اس کے بعد 3 فروری 2026 سے شروع ہونے والا مقدمہ تقریباً 7 ہفتوں تک جاری رہا۔استغاثہ نے عدالت سے ملزم کیخلاف 7 سال 7 ماہ قید اور 5 لاکھ 80 ہزار نارویجن کرونر ہرجانے کی سزا دینے کی استدعا کی تھی، تاہم عدالت نے 4 سال قید کی سزا سنائی۔ عدالتی فیصلے کے بعد مجرم نے سزا کے خلاف اپیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔