کانگریس جنرل سکریٹری اور سینئر لیڈر جئے رام رمیش نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ ہندوستانی جمہوریت کو ایک نئی پستی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں جئے رام رمیش نے کہا کہ موجودہ وزیر داخلہ اس عظیم عہدے کی وقعت کو مجروح کر رہے ہیں جسے کبھی سردار ولبھ بھائی پٹیل جیسی شخصیت نے سنبھالا تھا۔एक बौखलाए हुए केंद्रीय गृह मंत्री -जो उस पद की गरिमा के लिए कलंक हैं, जिसे कभी सरदार पटेल ने संभाला था- ने बड़ी बेशर्मी से भारतीय लोकतंत्र को नए निचले स्तर तक पहुंचा दिया है।उन्होंने 20 TMC सांसदों को अवैध तरीके से तोड़ने और उनका एक ऐसी राजनीतिक इकाई के साथ पूरी तरह संदिग्ध…— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) June 15, 2026جئے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ وزیر داخلہ نے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے 20 اراکین پارلیمنٹ کو غیر قانونی طریقے سے توڑنے اور انہیں ایک ایسی سیاسی پارٹی میں ضم کرنے کی سازش رچی ہے جس کے بارے میں عوام شاید ہی کچھ جانتے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ’نیشنلسٹ سٹیزنز پارٹی آف انڈیا‘ نامی یہ سیاسی پارٹی بظاہر رجسٹرڈ تو ہے، لیکن اسے باضابطہ سیاسی شناخت حاصل نہیں ہے۔ اس کا قیام بھی محض 3 سال قبل عمل میں آیا تھا۔کانگریس لیڈر کے مطابق اس مبینہ انضمام کے بعد یہ پارٹی قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی دوسری سب سے بڑی پارٹی بن سکتی ہے، حتیٰ کہ تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) اور جنتا دل (یونائیٹڈ) جیسی پرانی اور تجربہ کار اتحادی پارٹیوں سے بھی آگے نکل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ڈی پی اور جے ڈی (یو) کو ایسے خفیہ سیاسی ہتھکنڈوں اور اپنی سیاسی حیثیت کو اس انداز میں کمزور کیے جانے کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔این سی پی آئی: 2023 میں رجسٹریشن اور پہلے الیکشن میں محض 822 ووٹ، اب راتوں رات ملے 20 ایم پی، آئیے جانیں پارٹی کی کہانیجئے رام رمیش نے الزام لگایا کہ یہ غیر معمولی سیاسی قدم دراصل لوک سبھا میں این ڈی اے کے لیے دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کی ایک بڑی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق مرکزی وزیر داخلہ پارلیمنٹ میں برتری حاصل کرنے کے لیے سیاسی پارٹیوں اور منتخب نمائندوں کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب تک امت شاہ وزارت داخلہ کے منصب پر فائز رہیں گے شائستگی، جمہوری روایات، آئینی اقدار اور اصولوں کے تئیں وابستگی مسلسل کمزور ہوتی رہے گی۔ کانگریس لیڈر کا کہنا ہے کہ ملک کے جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے کے بجائے انہیں کمزور کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جو جمہوریت کے لیے تشویش کا باعث ہے۔