پٹنہ : بھارت کے مشہور ایجوکیٹر اور یوٹیوبر فیصل خان عرف ’خان سر‘ پٹنہ (بہار) میں کوچنگ مافیا کی شدید دشمنی اور ایک پرتشدد واقعے کے بعد متعدد قانونی شکنجوں میں پھنس چکے ہیں۔خان سر کے انسٹی ٹیوٹ کے باہر گزشتہ دنوں توڑ پھوڑ اور فائرنگ کا ایک واقعہ پیش آیا تھا جس کے بعد ان کیخلاف بھی پر اقدامِ قتل اور آرمز ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔گزشتہ دنوں بھارت کی ریاست بہار کے شہر پٹنہ میں معروف ماہرِ تعلیم خان سر کے کوچنگ سینٹر پر نامعلوم نقاب پوش افراد نے حملہ کردیا، اس واقعے میں ایک سکیورٹی گارڈ شدید زخمی ہوا جبکہ عمارت کے باہر توڑ پھوڑ اور نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔پٹنہ میں ان کے کوچنگ سینٹر کے قریب پیش آنے والے ایک پرتشدد واقعے نے نہ صرف تعلیمی حلقوں بلکہ ملک بھر میں کوچنگ انڈسٹری کے ماحول اور سکیورٹی انتظامات پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق خان سر کا اصل نام فیصل خان ہے، کم فیس میں معیاری تعلیم فراہم کرنے اور منفرد تدریسی انداز کے باعث لاکھوں طلبہ میں مقبول ہیں۔اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے فیصل خان نے پٹنہ منتقل ہو کر "خان جی ایس ریسرچ سینٹر” کی بنیاد رکھی، جو بعد میں "خان گلوبل اسٹڈیز” کے نام سے مشہور ہوا۔ان کے یوٹیوب چینل کے لاکھوں سبسکرائبرز ہیں اور خاص طور پر دیہی علاقوں کے طلبہ انہیں مسابقتی امتحانات کی تیاری کے لیے رہنمائی کا اہم ذریعہ سمجھتے ہیں۔Patna | #Watch: CCTV footage surfaces of assailants vandalising Khan Sir’s coaching institute pic.twitter.com/vVUwxEkKcz— NDTV (@ndtv) June 3, 2026واقعے کے مطابق 2 جون 2026 کی رات پٹنہ کے علاقے مسلح پور ہاٹ میں واقع خان گلوبل اسٹڈیز کے مرکز کے قریب 15 سے 20 افراد کے ایک گروپ نے مبینہ طور پر پتھراؤ کیا اور فائرنگ بھی کی۔حملے کے دوران ادارے کے سائن بورڈز کو نقصان پہنچا جبکہ ایک سکیورٹی گارڈ زخمی بھی ہوا۔ واقعے کے اگلے روز طلبہ نے احتجاج کیا جس کے بعد معاملہ قومی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا۔خان سر کی ٹیم نے الزام عائد کیا ہے کہ حملہ ایک حریف کوچنگ ادارے کی جانب سے کرایا گیا ہے، جو ان کے ادارے کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خائف تھا۔ ان کے مطابق یہ کارروائی کم آمدنی والے طلبہ کو سستی تعلیم فراہم کرنے والے ادارے کو دباؤ میں لانے کی کوشش تھی۔پولیس تحقیقات کے دوران ایک حریف اکیڈمی کے ڈائریکٹر روشن آنند کو گرفتار کیا گیا، تاہم بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج اور سکیورٹی اہلکاروں کے بیانات سامنے آنے کے بعد کیس نے نیا رخ اختیار کر لیا۔تحقیقات میں یہ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ مبینہ طور بعض گولیاں خان سر کے اپنے ادارے کی عمارت کے اندر سے یعنی ان کے سیکیورٹی گارڈز نے چلائی تھیں۔ان شواہد کی بنیاد پر پولیس نے خان سر کے خلاف بھی مقدمہ درج کر لیا، جس میں اقدامِ قتل اور اسلحہ قوانین کی خلاف ورزی جیسے سنگین الزامات شامل ہیں۔پولیس نےکارروائی کے دوران خان سر کے دو سکیورٹی گارڈز کو بھی گرفتار کیا ہے، جنہوں نے مبینہ طور پر تفتیش کے دوران خان سر کے ملوث ہونے کا دعویٰ کیا، تاہم خان سر ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔دوسری جانب عدالت نے خان سر کو عبوری ریلیف دیتے ہوئے گرفتاری سے عارضی تحفظ فراہم کیا ہے، بشرطیکہ وہ تحقیقات میں مکمل تعاون جاری رکھیں۔ پٹنہ ہائی کورٹ میں ان کے خلاف درج مقدمات ختم کرنے کی درخواست بھی زیرِ سماعت ہے۔معاملہ اس وقت مزید پیچیدہ ہوگیا جب حریف ادارے کے ڈائریکٹر روشن آنند کے بھائی کی لاش نیپال کے ایک ہوٹل سے برآمد ہوئی۔ اگرچہ حکام اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں، تاہم اب تک اسے کوچنگ تنازع سے جوڑنے کے شواہد سامنے نہیں آئے۔ خان سر نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ادھر خان گلوبل اسٹڈیز کو فائر سیفٹی قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں پر بھی نوٹسز موصول ہوئے ہیں، جس سے ادارے کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تنازع پٹنہ کی کوچنگ انڈسٹری میں بڑھتی ہوئی مسابقت اور مالی مفادات کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔اس کیس کا فیصلہ نہ صرف خان سر کے مستقبل بلکہ پورے خطے میں کوچنگ اداروں کے طریقہ کار اور ضابطوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔