کانگریس کے سینئر لیڈر کے سی وینوگوپال نے مغربی بنگال کے ضلع جنوبی 24 پرگنہ میں کیرلم کے ایک شخص کی موب لنچنگ پر اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ اس معاملے میں انھوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے فوری مداخلت اور ضروری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک خط بھی لکھا ہے۔ وینوگوپال نے پیر کے روز لکھے گئے اپنے خط میں کہا کہ مغربی بنگال کے کلتلی علاقہ کے سنکی جاہان میں کیرلم کے ایک شخص کو ہجوم نے تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا۔ اس واقعہ کو افسوسناک اور تشویش ناک قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہجومی تشدد اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کا بڑھتا ہوا رجحان قانون کی حکمرانی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔The news of a man being lynched to death by a mob in South 24 Paraganas, West Bengal is deeply shocking. I have written to the Union HM Sh. Amit Shah and WB CM Sh. Suvendu Adhikari seeking their intervention to ensure that no matter the circumstances, the law & order situation…— K C Venugopal (@kcvenugopalmp) June 15, 2026کانگریس لیڈر نے اپنے خط میں بتایا کہ مقتول کام کے سلسلے میں اپنے ایک جاننے والے سے ملنے اس علاقہ میں پہنچا تھا۔ مقامی جغرافیہ سے ناواقف ہونے کے باعث وہ غلطی سے دوسرے علاقہ میں پہنچ گیا۔ مقامی زبان نہ جاننے کی وجہ سے وہ دیہاتیوں کو اپنی شناخت اور وہاں آنے کا مقصد ٹھیک طرح نہیں بتا سکا۔ اس کے بعد مقامی لوگوں نے اسے چور سمجھ لیا۔ پھر اسے ایک کھمبے سے باندھ دیا اور بے رحمی سے پٹائی شروع کر دی۔ بعد ازاں جئے نگر-کلتلی دیہی اسپتال میں علاج کے دوران اس کی موت ہو گئی۔کے سی وینوگوپال نے کہا کہ مغربی بنگال پولیس نے مقدمہ درج کر کے ابتدائی گرفتاریاں کی ہیں، لیکن جرم کی سنگینی اور اس کے وسیع اثرات کے پیش نظر وزارت داخلہ کی مداخلت ضروری ہے۔ انہوں نے امت شاہ سے معاملے کی فوری جانچ کرانے اور قصورواروں کے خلاف ضروری کارروائی یقینی بنانے کی درخواست کی تاکہ متاثرہ خاندان کو جلد انصاف مل سکے۔بریلی: دلت نوجوان کے قتل کے بعد ناراض اہل خانہ اور گاؤں والوں نے جام کیا سڑکاس واقعہ کے تعلق سے پولیس کا کہنا ہے کہ کیرلم کے ایک باشندے کو جنوبی 24 پرگنہ ضلع واقع کلتلی علاقہ میں چور ہونے کے شبہ میں بے رحمی سے مارا پیٹا گیا تھا۔ الزام ہے کہ لوگوں نے اسے رسی سے باندھ کر تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں اس کی موت ہو گئی۔ یہ واقعہ 9 جون کو پیش آیا تھا، لیکن پولیس کو اس کی تفصیلی معلومات ہفتہ کے روز انٹرنیٹ میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز اور پوسٹس سے حاصل ہوئیں۔ معاملہ کی جانکاری ملنے کے بعد ہفتہ کے روز ایف آئی آر درج کی گئی۔ تحقیقات کے دوران پولیس نے پہلے 8 افراد کو حراست میں لیا تھا۔ ان میں سے 5 ملزمان کو ہفتہ کی دیر رات گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے علاوہ 2 نابالغوں کو بھی تحویل میں لیا گیا ہے، جبکہ ایک شخص کو پوچھ گچھ کے بعد چھوڑ دیا گیا۔