ٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے

Wait 5 sec.

سوئٹزر لینڈ : امریکی صدر ٹرمپ کے ایران کیخلاف دیے گئے سخت بیان سے بدمزگی پیدا ہوگئی جس کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے۔سوئٹزر لینڈ کے سیاحتی ریزورٹ برگن اسٹاک میں پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے۔ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، ایرانی وفد نے برگن اسٹاک سے روانگی کی تیاری شروع کرد۔خبر کے مطابق ایرانی وفد نے بات چیت لبنان پر اسرائیلی حملے نہ ہونے سے مشروط کردی، ایرانی میڈیا کے مطابق قبل ازیں امریکی صدر کے دھمکی آمیز بیانات پر ایرانی وفد نے شدید احتجاج کرتے ہوئے باضابطہ احتجاج درج کرایا اور بعد ازاں مذاکراتی میز چھوڑ کر چلا گیا۔مزید پڑھیں : ٹرمپ کی لبنان کے معاملے پر ایران کو دھمکیاںواضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان کے معاملے پر اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے بجائے ایران کو دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘پر امریکی صدر نے ایک پوسٹ میں مطالبہ کیا کہ ایران لبنان میں اپنے پراکسیز کو گڑ بڑ کرنے سے روکے، اگر تہران باز نہ آیا تو ہم اس پر دوبارہ بہت سخت حملہ کریں گے۔امریکی صدر نے کہا کہ ایران پر ایسے ہی حملہ کریں گے جیسے پچھلے ہفتے کیے تھے، بلکہ ان سے بھی زیادہ شدید حملے کریں گے۔ہم امریکیوں کی دھمکیوں پر غور نہیں کرتے، ایران