ری-نیٹ یو جی 2026 کا امتحان سخت نگرانی میں مکمل، 22 لاکھ طلبہ شریک

Wait 5 sec.

نئی دہلی: ری-نیٹ یو جی 2026 کا دوبارہ امتحان اتوار کو ملک بھر میں سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان منعقد ہوا۔ امتحان شام تقریباً سوا پانچ بجے اختتام پذیر ہوا، جس کے بعد نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس امتحان میں 22 لاکھ امیدواروں نے حصہ لیا۔این ٹی اے کے مطابق امتحان ملک بھر کے 5440 مراکز اور بیرون ملک 14 مراکز پر 13 زبانوں میں منعقد کیا گیا۔ اس دوران پولیس اہلکاروں، مبصرین اور امتحانی عملے سمیت تقریباً سات لاکھ افراد کی خدمات حاصل کی گئیں تاکہ امتحانی عمل کو شفاف اور محفوظ بنایا جا سکے۔ایجنسی کے مطابق مختلف ریاستی حکومتوں نے امتحانی مراکز کے باہر امیدواروں اور ان کے اہل خانہ کے لیے سایہ، پینے کے پانی، کھانے پینے کی سہولت، ایمبولینس اور طبی خدمات کا انتظام کیا۔ کئی ریاستوں میں امیدواروں کے لیے مفت آمد و رفت کی سہولت بھی فراہم کی گئی۔این ٹی اے نے بتایا کہ امتحان کے دوران آدھار پر مبنی بایومیٹرک تصدیق، چہرے کی شناخت، نگرانی کے کیمرے، جیمر اور مقامی پولیس کی مدد سے دو سطحی حفاظتی نظام نافذ کیا گیا۔ ادارے نے صرف 37 دن کے اندر دوبارہ امتحان کے انعقاد کو اپنی اہم کامیابی قرار دیا۔ادھر امتحان سے ایک روز قبل امتحانی مرکز کی تقسیم کو لے کر تنازعہ سامنے آیا تھا۔ ایک امیدوار نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کا مرکز ناگپور کے بجائے ابو ظبی مقرر کر دیا گیا۔ تاہم این ٹی اے نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ویب ریکارڈ کے مطابق امتحانی شہر میں تبدیلی امیدوار کے رجسٹرڈ لاگ اِن کے ذریعے اصلاحی مدت کے دوران کی گئی تھی اور مسلسل رسائی کے شواہد ایک ہی صارف کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ امیدوار کے اہل خانہ کی جانب سے 19 جون کی شام غیر رسمی درخواست موصول ہوئی تھی جس میں امتحانی مرکز دوبارہ ناگپور منتقل کرنے کی گزارش کی گئی تھی۔ این ٹی اے کے مطابق اس کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے امیدوار کے والد سے رابطہ کیا گیا اور ضابطے کے مطابق مرکز تبدیل کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا۔واضح رہے کہ 3 مئی کو منعقد ہونے والا نیٹ یو جی 2026 کا امتحان پرچہ افشا ہونے کی شکایات کے بعد منسوخ کر دیا گیا تھا۔ اسی معاملے پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے ہفتہ کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج شروع کیا اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ مطالبہ پورا ہونے تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔اس دوران لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے امتحان سے قبل امیدواروں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس بار امتحان شفاف طریقے سے مکمل ہوگا اور کسی قسم کی بے ضابطگی سامنے نہیں آئے گی۔