ٹیلیگرام پر عارضی پابندی کے بعد کھڑگے کا مودی حکومت پر حملہ، وزیر تعلیم سے استعفیٰ کا کیا مطالبہ

Wait 5 sec.

نیٹ سمیت مختلف مسابقتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچہ لیک ہونے کے معاملات اور نیٹ ری-ایگزام معاملہ پر مرکز کی مودی حکومت لگاتار نشانے پر ہے۔ اب نیٹ ری-ایگزام سے قبل ٹیلیگرام پر عارضی پابندی عائد کیے جانے کا معاملہ سرخیوں میں ہے۔ اس تعلق سے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے مودی حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک بیان میں حکومت کو امتحان کے نظام کی ناکامیوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔मोदी सरकार ने NEET परीक्षा के Re-Exam के लिए Telegram को Temporary Block कर दिया है। मोदी जी को सबसे पहले अपने शिक्षा मंत्री धर्मेंद्र प्रधान का इस्तीफा लेना चाहिए, जिन्होंने करोड़ों युवाओं के भविष्य को Block कर रखा है। भारतीय वायु सेना को इस्तेमाल करना हो, Telegram को Block… pic.twitter.com/xX1qK7x4Er— Mallikarjun Kharge (@kharge) June 16, 2026ملکارجن کھڑگے نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ ’’مودی حکومت نے نیٹ کے ری-ایگزام کے لیے ٹیلیگرام کو عارضی طور پر بلاک کر دیا ہے، لیکن اصل ضرورت یہ ہے کہ سب سے پہلے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفیٰ لیا جائے، کیونکہ انہوں نے کروڑوں نوجوانوں کے مستقبل کو بلاک کر رکھا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’حکومت کو کبھی ہندوستانی فضائیہ کو استعمال کرنا پڑتا ہے، کبھی ٹیلیگرام پر پابندی لگانی پڑتی ہے اور کبھی چھوٹے موٹے ملزمین کو پکڑ کر اصل پیپر لیک مافیا کو بچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ گزشتہ دس برسوں میں 90 سے زائد امتحانات کے پیپر لیک ہوئے ہیں اور تقریباً 9 کروڑ نوجوان اس بدعنوانی اور بے ضابطگی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔‘‘کھڑگے نے سوال اٹھایا کہ حکومت اپنی ناکامیوں پر آخر کب تک پردہ ڈالتی رہے گی؟ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امتحان کے نظام میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال اور ذہنی دباؤ کے باعث تقریباً نصف درجن نوجوانوں نے خودکشی تک کر لی، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی نے اس معاملے پر ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ کانگریس صدر نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ملک میں ہزاروں ایسے امیدوار موجود ہیں جن کے والدین نے قرض لے کر برسوں تک اپنے بچوں کو مختلف بھرتی اور داخلہ امتحانات کی تیاری کروائی، لیکن بار بار نیٹ، ایس ایس سی، یو جی سی-نیٹ، سی یو ای ٹی اور دیگر امتحانات کے پیپر لیک ہونے کے واقعات نے ان نوجوانوں کی محنت اور مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا۔ہندوستان میں ٹیلیگرام پر عارضی پابندی لگانے کا اعلان، نیٹ کے دوبارہ امتحان سے عین قبل حکومت کا فیصلہملکارجن کھڑگے نے سی بی ایس ای کے نتائج پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہاں بھی اتنی بے ضابطگیاں سامنے آئیں کہ 17 اور 18 سال کے ہونہار طلبا کو خود حکومت کی خامیوں کو بے نقاب کرنا پڑا۔ اب یو پی ایس سی جیسا امتحان بھی، جسے ملک میں شفافیت اور اعتبار کی علامت سمجھا جاتا تھا، الزامات کے دائرے میں آ گیا ہے۔ کھڑگے کے مطابق ملک کا باشعور نوجوان صرف ایک بنیادی مطالبہ کر رہا ہے اور وہ ہے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ۔ یہ جوابدہی کی پہلی آزمائش بن چکی ہے، لیکن افسوس کی بات ہے کہ بی جے پی اس امتحان میں مکمل طور پر فیل ثابت ہوئی ہے۔