مرکزی حکومت نے آج (16 جون) سے پیٹرولیم مصنوعات پر برآمد ڈیوٹی میں بڑی تبدیلی کر دی ہے۔ ڈیزل اور ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) پر لگنے والی ڈیوٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ڈیزل کی برآمد پر اب 14 روپئے فی لیٹر کی خصوصی اضافی ایکسائز ڈیوٹی (ایس اے ای ڈی) نافذ ہوگی۔ وہیں اے ٹی ایف کی برآمد پر 12.5 روپئے فی لیٹر ایس اے ای ڈی ادا کرنی ہوگی۔ پیٹرول کی برآمد پر فی الحال موجودہ ڈیوٹی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ اس کی شرح پہلے کی طرح ہی 1.5 روپئے فی لیٹر برقرار رہے گی۔کیا آئل ریفائنریز پر خفیہ حملے ہو رہے؟ ہندوستان سے امریکہ تک لگی آگ اتفاق یا سازش؟ آئیے جانتے ہیں ماہرین کی آراءحکومت کی جانب سے یہ برآمد فیس سب سے پہلے 27 مارچ 2026 کو نافذ کی گئی تھی۔ اس وقت مغربی ایشیا میں جاری بحران کی وجہ سے بین الاقوامی بازار میں خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی طلب اور قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا۔ ایسے حالات میں ریفائنریز کے لیے گھریلو بازار کے بجائے برآمد کرنا زیادہ فائدے مند ہو رہا تھا۔ حکومت کا یہ فیصلہ ریفائنری کمپنیوں کے ذریعہ برآمد کو ترجیح دینے سے روکنے کے لیے ہے تاکہ ملک میں پیٹرول، ڈیزل اور اے ٹی ایف کی مزید قلت نہ ہو۔واضح رہے کہ برآمد ڈیوٹی سے متعلق شرحوں کا ہر 15 دن میں جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس بار کی نئی شرحیں گزشتہ ہفتے میں خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی اوسط بین الاقوامی قیمت کی بنیاد پر طے کی گئی ہے۔ اس شرح میں گزشتہ یکم جون 2026 کو تبدیلی ہوئی تھی۔ یہ تبدیلی صرف برآمد پر نافذ ہوتی ہے۔ گھریلو بازار میں فروخت ہونے والے پیٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں کوئی بدلاؤ نہیں کیا گیا ہے، یعنی پیٹرول پمپ پر آپ کو ملنے والے فیول کی قیمت تازہ تبدیلی سے متاثر نہیں ہوگی۔